نسل پرستی: اداکارہ باغدو پر جرمانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی اداکارہ بغِیجت باغدو پر اپنی نئی کتاب میں نسلی جذبات بھڑکانے کے الزام میں پانچ ہزار یورو جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی نئی کتاب ’اے کرائی اِن دی سائلنس‘ میں فرانس کی اسلامائزیشن کی مخالفت کر کے نسلی جذبات بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی انہوں نے عدالت میں معافی نامہ پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ جان بوجھ کر کسی کی دلآزاری نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ اپنی کتاب میں انہوں نے نسلی میل جول، امیگریشن، سیاست میں عورتوں کے کردار اور اسلام جیسے موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیاہے۔
کتاب کی اشاعت کے بعد نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں نے باغدو کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا جس پر انہیں جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مادام باغدو نے مسلمانوں کو ظالم و جابر حملہ آوروں کے طور پر پیش کیا ہے جو دہشت گرد کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں اور فرانسیسیوں کو زیر کر کے انہیں نیست و نابود کر دینا چاہتے ہیں۔ عدالت نے مادام باغدو کے اشاعتی ادارے لغوشے کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ بھی پانچ ہزار یورو جرمانہ ادا کرے۔ عدالت نے مادام باغدو اور لغوشے کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ اپنے خلاف ہونے والی عدالتی فیصلے کا اعلان اخباری اشتہارات کے ذریعے کرے۔ اس سے پہلے بھی مادام باغدو کو اسلامی ذبیعہ کی تنقید سے متعلق اپنے تحریروں کے ذریعے نسلی تشدد کو ہوا دینے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||