نیپال: باغیوں کی دھمکی، ہائی الرٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں ماؤ نواز باغیوں کی طرف سے کھٹمنڈو کے گھیراؤ کے دھمکی کے بعد ملکے میں سیکیورٹی کے ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ باغیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہ پورے کیے گئےتو وہ ملک کے دارالحکومت کو خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی بند کر دیں گے۔ باغیوں نے کھٹمنڈو میں کاروبار کرنے والی ملٹی نیشنل فرموں سمیت چوبیس کمپنیوں کو کہا ہے کہ وہ بدھ تک اپنا کام بند کر دیں۔ پیر کے روز مشتبہ باغیوں نے کھٹمنڈو کے ایک ہوٹل میں بم بھی پھینکا تھا۔ اس واقع میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ ماؤ نواز باغی انیس سو چھیانوے سے بادشاہت کے خاتمے اور کمیونسٹ مملکت کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ اس عرصے میں باغیوں اور سرکاری ادراوں کے درمیان لڑائی میں تقریباً نو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلز ہاویلینڈ نے کہا کہ نیپال میں دور دراز شہروں اور اضلاع کا گھیراؤ عام بات ہے لیکن اب پہلی بار باغیوں نے ملک دارالحکومت کے خلاف، جس کا انحصار سیاحت پر ہے، اس طرح کے اقدام کا اعلان کیا ہے۔ نیپال میں دس لاکھ کے قریب افراد سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ باغیوں نے گیارہ مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں جن میں ان کے گرفتار شدہ ساتھیوں کی رہائی اور اور ہلاک ہو جانے والوں کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ باغیوں نے کاروباری اداروں، جن میں سے اکثر کا تعلق شاہی خاندان سے ہے کے خلاف، مزدوروں کے استحصال کا الزام لگایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||