نیپالی ہوٹل میں بم دھماکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ایک بڑے ہوٹل کوغیر معینہ عرصے کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ پیر کو اس ہوٹل کے احاطے میں ایک شخص نے چار بم پھینکے تھے۔ اس حادثے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے مگر سوآلٹی کراؤن پلازا نامی اس ہوٹل کی انتظامیہ نے حکومت پر ان کے سیکیورٹی خدشات پر توجہ نہ دینے کا الزام لگایا ہے۔ پچھلے ہفتے ماؤسٹ باغیوں سے تعلق رکھنے والی ایک ٹریڈ یونین نے تقریباً دس نمایاں کمپنیوں کو منگل تک اپنا کام بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ بڑی کمپنیاں ملازموں کا استحصال کر رہی ہیں۔ سبھی کمپنیوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان کمپنیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔ ماؤسٹ باغیوں نے بدھ سے کٹھمنڈو پر مالی پابندیاں لگانے کی بھی دھمکی دی ہے۔ دریں اثناء ماؤسٹ باغیوں نے سرکاری ریڈیو کے لیے کام کرنے والے ایک صحافی دیکیندر راج تھاپا کو ہلاک کر دیا ہے۔ انہیں دو ماہ پہلے مغربی پہاڑی ضلع دیلکھ سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ مقامی صحافیوں نے باغیوں کے رہنماؤں کے حوالے سے بتایا کہ تھاپا پر پولیس کا مخبر ہونے کا الزام تھا۔ نیپالی صحافیوں کی جماعت ’دی نیپالیز جرنلسٹ فیڈریشن‘ کا کہنا ہے کہ پچھلے آٹھ سال میں ماؤسٹ باغیوں نے پانچ صحافیوں کو ایسے ہی الزامات کی بنا پر ہلاک کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ چار مزید صحافیوں کو سیکیورٹی افواج نے باغیوں کی حمایت کے مبینہ الزام کی وجہ سے ہلاک کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||