باغیوں کے ہاتھوں دو ہزار افراد اغوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے ماؤ نواز باغیوں نے ملک کے جنوب مغربی علاقے میں بھارت کے ساتھ سرحد پر واقع گاؤوں سے تقریباً دو ہزار افراد کو اغوا کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مقامی سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ ان علاقوں سے مزید تین ہزار افراد اپنے گاؤں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں تاکہ باغیوں کے اغوا کئے جانے سے بچ سکیں۔ یہ گاؤں کنچن پور ضلع میں واقع ہیں۔ باغیوں نے جن افراد کو اغوا کیا ہے انہیں سیاسی اور ثقافتی نوعیت کے ایک پروگرام میں زبردستی شرکت کروائی جاتی ہے تاکہ انہیں بغاوت کی بنیاد سے آگاہ کیا جاسکے اور پھر چند دن بعد انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ بغاوت کی وجوہات سے آگاہ ہونے کے بعد کئی افراد ان کے حامی ہوئے ہیں۔ باغیوں پر ماضی میں بھی اغوا کاریوں کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار سشیل شرما کا کہنا ہے کہ گاؤں والوں کو اغوا کرنے کے واقعات عام ہیں اور یہ مسلسل ہورہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ باغی گاؤں والوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم باغیوں نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران جب سے نیپال میں بغاوت شروع ہوئی، اب تک نو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کئی ہزار بھارت کی طرف ہجرت کرچکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||