نیپال میں جمہویت کے لیے احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں جمہوریت کے قیام کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے کئے جانے والے احتجاج کا سلسلہ ہفتے کو مسلسل تیسرے دن بھی جاری رہا۔ حزب اختلاف کے کارکنوں اور طالب علموں نے ہزاروں کی تعداد میں اس احتجاج میں حصہ لیا۔ اس احتجاج میں حصہ لینے والے حزب اختلاف کے کارکنوں اور طالب علموں نے دارالحکومت کھٹمنڈو میں کئی جگہ سڑکوں پر روکاوٹیں کھڑی کر دیں اور کئی جگہ پولیس کے ساتھ تصادم بھی ہوا۔ شہر میں مختلف مقامات پر دھوئیں کے بادل بھی اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔ گزشتہ سال نیپال کے انتظامی اختیارات بادشاہ نے سنبھال لیے تھے جس کے بعد سے حزب اختلاف کی جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں اور ملک ایک سیاسی بحران کا شکار ہے۔ ہفتے کو ہونے والے احتجاج کے عینی شاہدوں نے اطلاع دی ہے کہ کئی جگہوں پر احتجاج کرنے والوں نے سرکاری بسوں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا۔ حزب اختلاف کے کارکنوں نے شہر کی سڑکوں کا گشت کیا اور نعرہ بازی کی۔ انہوں نے سڑکوں پر ٹریفک کو روک دیا اور دکانوں اور تجراتی مراکز کو بند کروادیا۔ جمعہ کو ہونے والے احتجاج میں پولیس کے ساتھ تصادم میں درجنوں لوگوں کے زخمی ہونے کے بعد حزب اختلاف نے ہفتے کو ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||