نیپال میں جھڑپ: درجنوں ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں ماؤ نواز باغیوں نے ایک جھڑپ میں پولیس اور فوج کے درجنوں اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اب تک انتالیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بارے میں معلوم ہو سکا ہے۔ یہ واقعہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کو بھی اس جھڑپ میں کافی جانی نقصان پہنچا ہےاور کم از کم دس باغیوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ ماؤ نواز باغیوں نے حکومت اور عام لوگوں کے خلاف گزشتہ برس اگس میں امن مذاکرات ختم کرنے کے بعد حملےشروع کیئے تھے۔ باغی نیپال میں کمیونسٹ حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔ خبروں کے مطابق ٹیلی فون کا ٹاور تباہ ہونے سے دارالحکومت اور ضلع بھوج پُور سے مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ سال اگست کے بعد ماؤ باغیوں کا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ ماؤ نواز بغاوت کے شروع ہونے کے بعد اب تک تقریبا نو ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق باغیوں نے سکیورٹی حکام پر اس وقت زوردار حملہ کیا جب سرکاری افواج ٹیلی فون کے ٹاور کی حفا ظت کر رہی تھیں۔ ایک مقامی منتظم کے دفتر کے علاوہ ایک بینک پر بھی حملہ کیا گیا۔ کئی گھنٹوں تک باغیوں اور فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور یہ اس وقت تک جاری رہا جبتک وہاں فوج کا وہ ہیلی کاپٹر مدد کے لئے نہیں پہنچا جس میں رات کے اندھیرے میں دیکھنے والی سہولتیں موجود تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||