نیپال تشدد میں بائیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں فوجی حکام نے کہا ہے کہ مغربی ضلع سالیان میں ماؤ نواز باغیوں اور سکیورٹی فورسز میں گزشتہ دو روز کی لڑائی میں کم از کم بائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں گیارہ باغی اور گیارہ سکیورٹی فورس کے اراکین ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ باغیوں کا جانی نقصان زیادہ ہوا ہو۔ کٹھمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ابھی تک باغیوں کی طرف سے اس کے متعلق کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ باغیوں کے ساتھ جھڑپوں کی رپورٹیں ابھی واضح نہیں ہیں اور فوجی حکام ابھی تک تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔ جس پہاڑی پر یہ جھڑپیں ہوئی ہیں وہ بہت دور ہے اور وہاں پر مواصلات کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ حکام کے مطابق چھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب باغیوں نے معمول کی گشتی سکیورٹی فوج پر حملہ کیا۔ نیپال میں آٹھ سالہ لڑائی میں نو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ماؤ نواز باغی چاہتے ہیں کہ نیپال میں بادشاہت کو ختم کر کے اسے کمیونسٹ ریپبلک بنا دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||