نیپال میں دو ہزار نوجوان اغواء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی نیپال میں ماؤ نواز باغیوں نے جو ملک میں کمیونسٹ ریپبلک کے قیام کے لئے برسرِ پیکار ہیں، دو ہزار نوجوانوں کو اغواء کر لیا ہے۔ یہ واقعہ وسیع سطح پر اغواء کرنے کے عمل کی کارروائی کی نئی کڑی ہے جس سے اغواء کئے گئے لوگوں کو ماؤ نواز اصولوں کی تعلیم دے کر چند دنوں میں رہا کر دیا جاتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کنچن پور ضلعے کے ایک مقامی سیاسی رہنما نے بتایا کہ یہ دو ہزار نوجوان علاقے میں واقع مختلف دیہات سے جمع کئے گئے تھے۔ ان دیہات کے تین ہزار باشندے فرار ہو کر ہندوستان کے سرحدی علاقے میں داخل ہو گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ اطلاعات بھی تھیں کہ مغربی نیپال میں ماؤ نواز باغیوں نے ایک علاقے سے ساٹھ اساتذہ اور ایک اور علاقے سے کوئی ایک ہزار افراد کو اغوا کرلیا تھا۔ اگرچہ ان وارداتوں کی تصدیق کرنا مشکل ہے تاہم اس سے ماؤ نواز شدت پسندوں کی حکمت عملی میں ایک نئے رجحان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق لوگوں کوڈرا دھمکا کر جلسوں میں لے جایا جاتا ہے پھر اور پھر ان کے ذہن بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خیال ہے کہ جن لوگوں کو اغوا کیا گیا ہے انہیں کسانوں کے جلسوں میں شریک کیا جارہا ہے۔ تین چار دن بعد انہیں رہا کردیا جائے گا۔ بعض کا حشر اس سے زیادہ خراب ہوتا ہے۔ انہیں ماؤ نواز چھاپہ مار ضلعی ہیڈکواٹروں پر حملوں میں اپنے معاونین کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انہیں لمبے عرصے تک گرفتار رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ ماؤ باغیوں کا کہنا ہے کہ لوگ رضاکارانہ طور پر ان کی مدد کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ ماؤنواز باغیوں کی حکمت عملی میں اغوا کے علاوہ ہڑتال کا بھی طریقہ شامل ہے۔ گزشتہ تین دن سے پورا ملک ایک ایسی ہی ہڑتال کی گرفت میں ہے۔ اسی طرح دیہی علاقوں کی اقتصادی ناکہ بندی کی وجہ سے لوگوں کو اشیائے خوردنی کی قلت اور علاج معالجے تک رسائی میں دقت پیش آرہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||