نیپال: شاہ مخالف مظاہروں پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں حکومت نے دارالحکومت کھٹمنڈو میں سیاسی اجتماعات پر پابندی اور گرفتاریوں کو آسان بنانے کے لئے نئے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ ایسا کرنا اس لئے ضروری ہوگیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے بادشاہِ وقت شاہ گیاندرہ کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں میں ماؤ نواز باغی شریک ہو رہے ہیں۔ نئے اقدامات کے تحت جمعرات کو نصف شب کے بعد سےکھٹمنڈو اور اس کے نواح میں واقع جگہ للت پور میں مذہبی نوعیت کے جلسے کے علاوہ ہر قسم کے اجتماع پر پابندی ہوگی۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اس نئے حکومتی اقدام سے حزبِ اختلاف احتجاج اور غصے کا اظہار کرے گی۔ پہلے ہی ان الزامات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کہ شاہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ماؤ نواز باغی گھل مل رہے ہیں۔ نیپال اور للت پور کو فساد زدہ علاقے بھی قرار دے دیا گیا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہاں پانچ سے زیادہ افراد اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اپوزیشن ملک میں شاہ کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے جن میں جہوریت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||