دہشت گرد نیپال جا سکتے ہیں:امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کی شاہی فوج کی روایات تو بہت پرانی ہیں لیکن ہتھیاروں کے معاملے میں وہ بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ اس کے زیادہ تر فوجیوں کے پاس تیس سالہ پرانی رائفلیں ہیں جن کے ساتھ زیادہ اعتماد سے لڑائی نہیں لڑی جا سکتی۔ نیپال کی فوج کے پاس چھریاں دیکھ کر لگتا ہے جیسے کسی سیاح نے یادگار کے طور پر خریدی ہوں۔ امریکہ میں صدر بُش کی انتظامیہ نیپال کی شاہی فوج کو ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر دے گی جس سے وہ ایم سولہ ساخت کی بیس ہزار رائفلیں اور رات کو دیکھنے میں مدد دینے ولے آلات خریدے گی۔ امریکہ کی امداد کا مقصد نیپال کی ستّر ہزار افراد پر مشتمل فوج کو ایک جدید فوج میں تبدیل کرنا ہے۔ واشنگٹن چاہتا کہ نیپال کے فوجی بھی ’عالمی دہشت گردی‘ کے خلاف اس کی جنگ میں حصہ لیں۔ لیکن اس کے لئے انہیں عراق یا افغانستان نہیں بھیجا جائے گا بلکہ وہ نیپال میں ہی اپنے حصہ کا کام کریں گے۔ امریکہ انتظامیہ کے حکام کو خدشہ ہے کہ اگر نیپال میں ماؤ نواز باغیوں کی آٹھ سال سے جاری بغاوت کامیاب ہو گئی تو یہ شاہی مملکت بھی ’دہشت گردوں‘ کی آماجگاہ بن جائے گا جہاں القاعدہ جیسی تنظیموں کے ارکان کے چھپنے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ بُش انتظامیہ کو فکر لاحق ہے کہ نیپال کے بادشاہ گیانندرا کے اختیار کو ملک کے پچھتر میں سے اکثر اضلاع میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ نیپال کو ایک ناکام ریاست بننے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی فوجی امداد میں اضافہ کیا جائے۔ نیپال میں امریکہ کے سفیر مائیکل مالینووسکی کا کہنا ہے کہ ’ نیپال امریکہ سے بہت دور ہے لیکن اسے تشویش ہے کہ نیپال کے علاقے کنٹرول سے باہر نہ نکل جائیں اور وہاں ایسا خلا پیدا نہ ہو جسے دہشت گرد اپنے مقاصد کے لئے استعمال کریں‘۔ نیپال کے ماؤ نواز باغیوں نے امریکہ کی اس رائے کو ہنس کر ٹال دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اسامہ بِن لادن اور صدام حسین کو امریکہ نے تیار کیا تھا۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو نیپال کے عوام کے لئے انقلاب ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||