نیپال میں ایمرجنسی اٹھا لی گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے بادشاہ گیانندرا نے ملک میں لگائی گئی ہنگامی حالت کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تین ماہ قبل انہوں نے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرنے کے بعد ملک کا نظم و نسق براہ راست اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ کٹھمنڈو کے صدارتی محل سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایسا آئین کے تحت کیا تھا۔ بادشاہ نے نیپال کی حکومت کو یہ الزام لگانے کے بعد فروری میں برخاست کیا تھا کہ وہ ماؤ نواز باغی گوریلوں کی بغاوت کے ساتھ نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ ہنگامی حالت کے ساتھ ساتھ شہری آزادیاں بھی ضبط کر لی گئی تھیں جس کی وجہ سے بادشاہ کو ملک کے اندر اور باہر سے تنقید کا سامنا ہے۔ شاہ گیانندرا کا کہنا تھا کہ نیپال میں ماؤ نواز باغیوں سے نمٹنے اور بد عنوانی کے خاتمے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا تھا کہ نیپال میں تین ہزار سیاسی قیدی موجود ہیں۔ نیپال میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ نیپال کی حکومت پر ایمرجنسی اقدامات میں نرمی کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ نیپال میں ایمرجنسی اقدامات کے نفاذ کے بعد اخبارنویسوں اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ نیپال سے تعلق رکھنے والی پچیس انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے علاوہ امریکی صدر جارج بش اور دوسرے عالمی رہنماؤں کو خطوط ارسال کیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||