نیپال کی بادشاہت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ محض ایک اتفاق نہیں کہ شاہ گیانندرا جو جون سن دو ہزار ایک میں شاہی محل میں قتل عام کے بعد نیپال کے تخت پر بیٹھے تھے بالکل اسی طرح اپنے وزیر اعظم سے بر سر پیکار رہے ہیں جس طرح ان کے آباؤ اجداد ایک صدی تک دنیا کی اس واحد ہندو بادشاہت میں معرکہ آراء رہے ہیں۔ اس قتل عام میں شاہ بریندرا ، ملکہ ، ولی عہد اور شاہی خاندان کے چار دوسرے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نیپال میں بادشاہ اور وزیر اعظم کے درمیان مخاصمت کی ریت بہت پرانی ہے جس نے ملک کے عوام کوکبھی چین کا سانس نہیں لینے دیا۔ تقریباً تین سال کے عرصہ میں جب سے شاہ گیانندرا نے بادشاہت سنبھالی ہے یہ دوسرا موقع ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کو برطرف کیا ہے اور ملک کی باگ ڈور خود سنبھالی ہے۔ آخر کیا بات ہے کہ نیپال میں بادشاہ اور وزیر اعظم ایک نیام میں دو تلواروں کی طرح ایک دوسرے سے بر سر پیکار رہتے ہیں۔اس کا جواب تلاش کرنے کے لِے ہمیں تاریخ کے دریچوں میں بہت دور تک جھانکنے کی ضرورت ہے۔ سات سو سال قبل نیپال میں جو کشمیر سے لے کر سکم تک پھیلا ہوا تھا، چھیالیس سے زیادہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں۔ مالا خاندان کے بادشاہ جیاستھتی نے نیپال کو پہلی بارمتحد کیا لیکن دوسو سال بعد نیپال پھر بکھر گیا۔ سن سترہ سو چھیاسٹھ میں چھوٹی سی گورکھا مملکت کے حکمران پرتھوی نارائین شاہ نے کاٹھمنڈو کی وادی کو فتح کر کے اسے دارالحکومت بنایا اور یہاں سے اپنی مملکت کو ایک وسیع بادشاہت میں تبدیل کر دیا جس نے توسیع پسندی کے جنون میں تبت پر حملہ کر دیا لیکن چینیوں نے پرتھوی نارائین شاہ کی فوجوں کو خفت آمیز شکست دے کر نیپال کو اپنا باج گذار بنا لیا۔ اس دوران ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے بعد نیپال اور برطانوی راج کے درمیان معرکہ آرائی کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجہ میں انگریزوں نے ایک طرف سکم کا علاقہ ہتھیا لیا اور دوسری طرف ترائی کے پورے علاقہ پر قبضہ کر کے نیپال کو کشمیر سے کاٹ دیا۔ سن اٹھارہ سو ستاون میں ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی میں نیپالی بادشاہ نے انگریزوں کی مدد کی جس کے عوض کچھ علاقے انگریزوں نے نیپال کو واپس کر دیے۔ شاہ خاندان کی عملی اور موثر بادشاہت کا دور سن اٹھارہ سو چھیالیس تک جاری رہا جب ایک سپہ سالار، جنگ بہادر رانا نے کاٹھمنڈو کے کوٹ (فوجی مرکز) کے قتل عام کے بعد وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ اس قتل عام میں نیپال کی اہم شخصیتیں اور متعدد سپہ سالار مارے گئے تھے۔ یہ آغاز تھا نیپال میں رانا وزراء اعظم کی حکمرانی کے دور کا جو بادشاہ سے بھی زیادہ بااختیار اور طاقت ور تھے بادشاہ محض کٹھ پتلی بن کر رہ گیا تھا۔ نیپال میں رانا وزرااعظم کی آمریت کا دور ایک صدی سے بھی زیادہ رہا۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد سن انیس سو پچاس میں ہندوستان کی حکمران کانگریس پارٹی کی مدد سے نیپال میں بی پی کوئیرالا کی قیادت میں نیپالی کانگریس پارٹی قائم ہوئی جس نے راناؤں کے خلاف عسکری تحریک چلائی اور آخر کار ملک کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ کر کے راناؤں کا دور ختم کر دیا۔
بہرحال نیپالی کانگریس نے عبوری جمہوری حکومت قائم کی آمرانہ پنچایت نظام لیکن یہ جمہوری حکومت زیادہ دیر تک نہ چل سکی- شاہ تریبھوں کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے شاہ مہندرا تخت پر بیٹھے جنہوں نے سن انیس سو ساٹھ میں پوری کابینہ کو گرفتار کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو ممنوع قرار دے دیا- شاہ مہندرا نے پارلیمانی نظام کی جگہ سیاسی جماعتوں کے بغیر پنچایتی نظام قائم کیا جس میں عملی طور پر تمام اختیارات بادشاہ کو حاصل تھے ۔ بادشاہ براہ راست وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو مقرر کرتا تھا ۔ سن انیس سو بہتر میں شاہ مہندرا کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے شاہ بریندرا تخت پر بیٹھے ۔ اس وقت تک عوام آمرانہ پنچایتی نظام سے اتنے بدظن ہو گئے کہ اس کے خلاف ناراضگی کا لاوا سن انیس سو اناسی میں آتش فشاں کی طرح خونریز فسادات کی صورت میں پھٹ پڑا ۔ ناراضگی کے اس سیل رواں پر قابو پانے کے لئے شاہ بریندرا نے پنچایتی نظام اور سیاسی جماعتوں کے نظام کے درمیان فیصلہ کے لئے ریفرنڈم کرایا جس میں کہا جاتا ہے کہ بڑے پیمانہ پر دھاندلی ہوئی اور پنچایت کے حق میں فیصلہ کیا گیا- اس فیصلہ کے خلاف عوام نے جن اندولن کے نام سے بڑے پیمانہ پر تحریک چلائی اور آخر کار شاہ بریندرا کو اپنی کابینہ توڑ نی پڑی، سیاسی جماعتوں کو قانونی قرار دینا پڑا اور حزب مخالف کو عبوری حکومت کی تشکیل کی پیشکش کرنی پڑی- مئی سن انیس سو اکیانوے کے عام انتخابات میں بیشتر ووٹ نیپالی کانگریس پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی کو ملے اور نیپال نے جمہوریت کا سفر پھر شروع کیا لیکن یہ سفر سن دو ہزار ایک میں شاہی محل میں ولی عہد دیپندرا کے ہاتھوں بادشاہ اور ملکہ کے قتل اور پھر خود کشی کے بعد رک گیا- گیانندرا دوسری بار بادشاہ بنے ہیں۔ یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ شاہ گیانندرا کو راناؤں نے پچاس سال قبل جب ان کی عمر چار سال تھی ان کے دادا شاہ تریبھون کے ہندوستان فرار ہونے کے بعد بادشاہ بنایا تھا- لیکن اس وقت نیپال کے عوام نے انہیں بادشاہ تسلیم نہیں کیا تھا اور بہت جلد شاہ تریبھون بھی ملک واپس آگئےتھے۔ شاہ گیانندرا کو دوبارہ اور حقیقی معنوں میں تخت پر بیٹھنا نصیب نہ ہوتا اگر ولی عہد دیپندرا اپنے والد ، والدہ اور شاہی خاندان کے دوسرے افراد کو قتل کرکے خودکشی نہ کر لیتے- شاہ گیانندرا کی ملکہ کومل فوج کے ایک ریٹایرڈ جنرل کی بیٹی ہیں شاہ گیانندرا کا صرف ایک بیٹا ہے جس کانام پارس ہے اور یہی اب ولی عہد ہے۔ نیپال میں عوام بادشاہ کو دیوتا مانتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں لیکن شاہ گیانندرا عوام میں زیادہ مقبول نہیں وجہ غالبا یہ کہ وہ عوامی حکومت کے حق میں نہیں ہیں- شاہ گیانندرا نے تخت پر بیٹھنے کے ایک سال کے بعد ہی کابینہ توڑ کر اپنی کابینہ بنائی اور اب انہوں نے پھر وزیر اعظم دیوبا کی حکومت برطرف کر کے سارے اختیارات خود سنبھال لیے ہیں اور ملک میں ہنگامی حلات نافذ کر دی ہے۔ نیپال میں بادشاہ اور وزیر اعظم کے درمیان معرکہ آرائی نے پھر ایک بار ملک میں سیاسی استحکام کو خطرہ میں ڈال دیا ہے اور جمہوریت کو شدید زک پہنچائی ہے خاص طور پر اس وقت جب ملک ایک طرف سنگین اقتصادی بحران کا شکار ہے اور دوسری طرف مسلح ماؤ نواز تحریک تیزی سے جاری ہے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||