BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 March, 2005, 11:24 GMT 16:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال: بدعنوانیوں کی انکوائری
شاہ گیانیندر
شاہ گیانیندر نے فروری میں اقتدار سنبھالا
نیپال میں بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق پینل سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے سلسلے میں نیپالی کابینہ کے چار سابق وزراء سے پوچھ گچھ کر رہا ہے ۔

اس نئے شاہی کمیشن کی تشکیل شاہ گیانیندر نے گزشتہ ماہ ملک کا اقتدار براہِ راست اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد کی تھی۔

اس کمیشن کو بڑے پیمانے پر اختیارات حاصل ہیں ۔

ایسو سی اٹیڈ پریس کے مطابق وزرا نے مبینہ طور پر 50،000 ڈالر سے زائد مالیت کے سرکاری فنڈزاپنے سیاسی حامیوں میں تقسیم کئے ہیں۔

کمیشن کے افسران نے الزام لگایا ہے کہ سابق حکومت کے سیاسی رہنماؤں نے اپنے اختیارات کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا ہے تاہم اس سلسلے میں تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

جن سابق وزرا سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے ان میں سے ایک ہومناتھ دہال کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کمیشن سیاسی مفاد کے لئے تشکیل کیا گیا ہے اوریہ سیاسی رہنماؤں کو خوفزدہ کرنے اور حکومت کے خلاف مظاہروں کی حوصلہ شکنی کرنے کی غرض سے کیا جا رہا ہے۔

فروری میں شاہ گیانیندر کی جانب سے سابق حکومت کو برطرف کرکے ایمرجنسی نافذ کئے جانے کے بعد سے متعدد سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ان میں دو سینئر سیاسی رہنما سابق وزیر اعظم گرجا پرساد کوئیرالہ اور نیپال یونائیٹڈ مارکسی لینن کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری مادھو کمار بھی شامل ہیں۔

ایک اور واقعہ میں سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا نے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لئے شاہ سے براہِ راست مزاکرات کی اپیل کی ہے۔شاہ گیانیندر نے شیر بہادر دیوبا کی حکومت کو برخاست کرکے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں کو ملا کر حکومت تشکیل دی جانی چاہئے۔

مسٹر دیوبا اپنی رہائی کے ایک ہفتے بعد بی بی سی سے بات کر رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ایجنسیوں نے خبر دار کیا تھا کہ نیپال میں حکومت اور ماؤ باغیوں کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے وہاں انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد