نیپال ایک بڑے بحران کے قریب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی ایجینسیوں نے خبردار کیا ہے کہ نیپال ایک بڑے انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ملک میں ماؤ نواز باغیوں اور سرکاری فوجوں کے درمیان جاری تنازعے کی وجہ متاثرہ علاقوں میں سویلین آبادی تک کئی مرتبہ بیرونی امداد بالکل نہیں پہنچ پاتی جس سے لوگوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک بیان میں اقوام متحدہ، یورپی یونین اور نو بڑی مغربی امدادی ایجینسیوں نے دونوں فریقوں سے ایپل کی ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں۔ نیپال کے بادشاہ گینندرا نے اس سال فروری میں حکومت کو برخاست کرکے اقتدار پر مکمل قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد سے ماؤ نواز باغیوں نے اپنے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی ایجینسیوں نے دونوں فریقوں سے اپیل کی ہے کہ اس تنازعے سے متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان کی ترسیل کویقینی بنانے میں مدد کریں۔ حال میں ایسی رپوٹیں بھی سامنے آئی ہیں کہ موجودہ تنازعے کی وجہ سے ان علاقوں میں طبی امداد تک رسائی نہ ہونے سے بچوں کی پیدائش کے وقت کئی مرتبہ مائیں ہلاک ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقی نیپال میں ایک لاکھ کے قریب بھوٹانی پناہ گزین بھی موجود ہیں جو مکمل طور پر بیرونی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیوی لینڈ نے مطابق انسانی حقوق کے ایک اور گروپ انٹرنیشنل کمیٹی آف جیورسٹس نے شاہ گینندرا پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کئی سیاسی کارکن، صحافی، طالبعلم اور انسانی حقوق کے کارکن گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||