عالمی رہنماؤں سے اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ نیپال کی حکومت پر ایمرجنسی اقدامات میں نرمی کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپال کے بادشاہ گیئندرا کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ بادشاہ نے گزشتہ منگل کو حکومت کو ماؤ باغیوں کی کارروائیوں کو روکنے میں ناکام قرار دے کر برطرف کر دیا تھا۔ نیپال میں ایمرجنسی اقدامات کے نفاذ کے بعد اخبارنویسوں اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نیپال سے تعلق رکھنے والی پچیس انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے علاوہ امریکی صدر جارج بش اور دوسرے عالمی رہنماؤں کو خطوط ارسال کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیپال کے عوام پرایک غیر قانونی فوجی حکومت نیپال کے بادشاہ کی سربراہی میں مسلط ہے اور بادشاہ کے تمام اقدامات بین الاقوامی اقدار کے منافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کی زبردست نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کو ہراساں بھی کیا جا رہا ہے۔ نپیال کی سب سے بڑی سیاسی جماعت نیپال کانگرس کے ترجمان ارجن ناراسنگھے کے سی نے اپنی نظر بندی ختم ہونے پر کہا کہ ان کی جماعت کے بے شمار کارکن قید میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم پانچ سو کارکن گرفتار ہیں اور انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کارکنوں کے بارے میں پریشان ہیں۔ کھٹمنڈو سے بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیویلینڈ نے اطلاع دی ہے کہ نیپال میں صحافیوں کی تنظیم فیڈریشن آف نیپالی جرنلسٹ کے جنرل سیکریٹری کو بھی نظر بند کر دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ فوجی حکومت کی امداد بند کر دیں اور انہیں گرفتارشدگان کے بارے تفصیلات فراہم کریں اور ان پر تشدد نہ کریں۔ انہوں نے نیپالی حکومت پر سفارتی دباؤ ڈالنے کو کہا ہے تاکہ بادشاہ کو سینسرشپ ختم کرنے، ٹیلی فون لائینوں کو بحال کرنے اور جمہوریت رائج کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔ فوجی حکام نے کہا ہے کہ یہ اقدامات ماؤ باغیوں کی کارروائیوں کو روکنے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ضروری تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||