کٹھمنڈو کی ’ناکہ بندی‘ معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں ماؤنواز باغیوں کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز سے وہ دارالحکومت کٹھمنڈو کی ایک ہفتے سے جاری رہنے والی 'ناکہ بندی‘ ایک ماہ کے لئے معطل کررہے ہیں۔ باغیوں کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم عام شہریوں، تجارتی اداروں اور حقوق انسانی کا دفاع کرنیوالی تنظیموں کی جانب سے کی جانیوالی اپیل کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ماؤنواز باغی نیپالی حکومت سے اپنے ساتھیوں کی رہائی اور مشتبہ حالات میں ان میں سے کچھ کی اموات کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ دارالحکومت کی ناکہ بندی کی ان کی کوششیں کچھ دنوں سے ناکام ہورہی تھیں اور ٹرک ڈرائیور کھلم کھلا اپنی گاڑیاں لیکر گزر رہے تھے۔ باغیوں نے ناکہ بندی کی اپیل کی تھی لیکن سڑکوں پر کوئی روڈ بلاک نہیں کھڑا کیا تھا۔ کٹھمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہویلینڈ کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے ناکہ بندی کی معطلی کا اعلان عام لوگوں کے لئے تجب کا باعث ہے۔ باغیوں نے یہ اعلان ایسے وقت کیا جب فوج نے بتایا کہ ملک کے شمال مشرق میں چار فوجی باغیوں کے حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوج کے ترجمان کے مطابق یہ فوجی اس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ کٹھمنڈو سے سو کیلومیٹر دور ایک روڈ سے روڈ بلاک ہٹا رہے تھے۔ فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ باغیوں کے حملے کے بعد ہونیوالی فوج کی جوابی کارروائی میں بیسیوں باغی ہلاک ہوگئے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ نیپال میں آٹھ سال قبل شروع ہونیوالی مسلح مزاحمت میں نو ہزار لوگ مارے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||