خود کش حملہ: رکن پارلیمان ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی پارلیمان کے سب سے عمر رسیدہ رکن بغداد کے مضافات میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ستاسی برس کے دھاری الفیاد، دو ماہ قبل عراق میں نئی حکومت کے قیام سے اب تک ہلاک کئے جانے والے دوسرے رکن پارلیمان ہیں۔ اِس حملے میں مسٹر فیاد کے ایک بیٹے اور تین محافظ بھی مارے گئے ہیں۔ یہ واقعہ امریکی قبضے کے بعد ملک کو عراقیوں کے حوالے کرنے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پیش آیا ہے۔ امریکی صدر بش منگل کو عراق میں امریکہ کے ہاتھوں عراقی حکومت کو اقتدار کی منتقلی کا پہلا سال مکمل ہونے کے بعد ایک اہم خطاب کرنے والے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی پیش رفت اور نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی مزاحمت کاروں کے حملوں میں کمی نہیں ہوئی ہے۔ درایں اثناء عراقی وزیر اعظم ابراہیم الجعفری نے لندن میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کے بعد اخبار والوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک میں دو سال کے اندر امن و امان قائم ہوسکتا ہے۔ اور دو سال کا وقت اس کے لیے بہت کافی ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے اس بیان کے دو دن بعد آیا تھا جس میں انہوں نے کھا تھا کہ عراق میں مزاحمت کو ختم کرانے کے لیے بارہ سال درکار ہونگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||