امریکی عوام بھی بش سے نالاں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں رائے عامہ کے نئے جائزے میں آدھے سے زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ صدر بش اور ان کی انتظامیہ نے عراق پر حملے کا جواز پیش کرتے وقت جان بوجھ کر عوام کے سامنے اس بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ صدر صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ اس سروے میں 57 فیصد لوگوں کا خیال ہے امریکی عوام کو گمراہ کیاگیا۔ اس طرح کے سروے میں پہلی مرتبہ صدر بش کے ناقد اکثریت میں نظر آئے۔ تقریباً ہزار لوگوں پر مشتمل یہ سروے اے بی سی نیوز اور واشنگٹن پوسٹ کے لئے کرایا گیا تھا۔ سروے کے مطابق 53 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اس جنگ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ تاہم 58 فیصد لوگوں کے خیال میں امریکی افواج کو اس وقت تک عراق میں رہنا چاہیے جب تک وہاں امن بحال نہ ہو جائے۔ یہ تازہ سروے عراق جنگ اور اس میں بش انتظامیہ کے کردار پر لوگوں میں بے اطمینانی کے اظہار کے سلسلے کی نئی کڑی ہے۔ سروے میں اکثریت نے نائب صدر ڈک چینی کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ عراق میں مزاحمت خاتمے کے نزدیک ہے ۔ 53 فیصد لوگوں کے خیال میں عراق میں مزاحمت زور پکڑ رہی ہے اور 24 فیصد کا کہنا ہے کہ لوگوں میں اس جنگ کی حمایت کے خاتمے کے ساتھ مزاحمت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ صدر بش منگل کی شام ٹی وی پر اپنی تقریر میں اس مسئلے پر بات کرنےوالے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مسٹر بش اس بارے میں بات کریں گے کہ عراق میں آگے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||