BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 June, 2005, 01:06 GMT 06:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کے ’خفیہ‘ حراست خانے
امریکہ کا بحری بیڑہ
الزام ہے کہ مبینہ دہشت گردوں کو امریکی بحری بیڑوں پر بھی رکھا جاتا ہے
اقوام متحدہ کے تشدد کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے خصوصی نمائندے مینفرڈ نو واک نے کہا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات ملیں ہیں جن کے مطابق امریکہ مبینہ طور پر دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار افراد کو خفیہ مقامات پر رکھ رہا ہے جن میں بحرِ ہند میں موجود امریکی بحریہ کے جہاز بھی شامل ہیں۔

مسٹر نو واک کا جو کہ آسٹریلیا کے ایک سفارت کار ہیں، کہنا ہے کہ شاید یہ اطلاعات افواہیں ہوں مگر ان کی تحقیقات کیلئیے امریکہ کو اقوام متحدہ سے تعاون کر نا چاہئیے۔

مسٹر نوواک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ باوثوق ذرائع کی طرف سے ایسے بہت سے الزامات ہیں کہ امریکہ خفیہ مقامات پر مشتبہ دہشت گردوں کو حراست میں رکھے ہوئے ہے۔ ایسی جگہوں میں ایسے امریکی بحری جہاز بھی شامل ہیں جو بیرونی ممالک میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق باور کیا جاتا ہے کہ یہ جہاز بحر ہند میں موجود ہیں۔مسٹر مینفرڈ نوواک نے کہا کہ یہ اب تک اگرچہ افواہیں ہی ہیں لیکن سنگین الزامات کے پیش نظر جمہوری تقاضے یہی ہیں کہ اقوام متحدہ ان الزامات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔

’ہمیں چاہے گوانتانامو سمیت ایسے حراستی مرکز تک رسائی ملتی ہے یا نہیں ہم ایک مشترکہ تفتیش شروع کر رہے ہیں جسکی رپورٹ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کو دی جائے گی کیونکہ اقوام متحدہ کو اس پر شدید تشویش ہے‘۔

مسٹر نوواک نے یہ بھی کہا ہے کہ فی الحال انکے پاس ان الزامات کی صداقت کے کوئی ثبوت نہیں ہیں لیکن یہ الزامات اپنی جگہ پر نہایت سنگین ہیں اور اسی لیے وہ امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ان سے اس ضمن میں تعاون کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ تمام حراستی مراکز کے ساتھ ساتھ ان میں زیر حراست افراد کی فہرستیں مہیا کرے۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے متعدد ماہرین نے گزشتہ برس امریکہ سے درخواست کی تھی کہ انہیں گوانتانامو کے حراستی مرکز تک رسائی دی جائے لیکن تا حال امریکہ نے انہیں یہ اجازت نہیں دی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد