عراقی فوج کا فعال کردار: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ عراق میں عراقی فوجیوں کی تعداد اب امریکی فوجیوں سے زیادہ ہو گئی ہے اور وہ مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ٹیکساس میں فورٹ ہڈ کے مقام پر 25,000 امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی عراق کو آزاد مملکت بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے۔ صدر بش نے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کا موازنہ دیوارِ برلن کے گرنے سے کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری عمل کا پیغام پورے مشرقِ وسطیٰ میں سنا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عراقیوں کو یہ اعتماد ہے کہ ان کی سکیورٹی فورس ان کا تحفظ کرنے کے لیے موجود ہے۔ صدر بش نے کہا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد 140,000 ہے جبکہ عراقی سکیورٹی فورسز کی تعداد اب 150,000 ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے نے ’عالمی جمہوری انقلاب‘ کا پیغام دیا تھا جس کا عمل مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں جمہوریت کی کامیابی سے بیروت سے لے کر ایران تک یہ پیغام پہنچ گیا ہے کہ ہر ملک کا مستقبل آزادی ہے۔ عراق میں قبضے کے بعد امریکی منتظمین نے عراقی فوج کا خاتمہ کر دیا تھا لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک بڑی غلطی تھی۔ اب عبوری انتظامیہ نے صدام حسین کی فوج میں کام کرنے والے کئی سینئر فوجیوں کو واپس فوج میں بھرتی کر لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||