BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 July, 2005, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد کےواقعات: امریکی تشویش
News image
سکیورٹی فورسز کے حوالےسےتشدد کےواقعات منظر عام پر آئے ہیں
امریکہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ عراقی حکومت پر سکیورٹی فورسز کےمبینہ تشدد کےدعووں کی تحقیقات کےحوالے سے دباؤ ڈالےگی۔

یہ قدم ایک رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعداٹھایا گیا ہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ برطانوی امداد کاغلط استعمال ہو رہا ہے۔

برطانوی اخبار ’اوبزرور‘ کے مطابق امریکی اور برطانوی امداد جو دراصل عراقی پولیس کے لیے تھی، اسے فوج کے پیراملٹری کمانڈوز استعمال کررہے ہیں۔

اخبار کا دعوی ہے کہ اس نےمشتبہ لوگوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹیں دیکھی ہیں جو ان کے ساتھ شدید قسم کی بد سلوکی کو ظاہر کرتی ہیں۔

امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اسے اس بارے میں شدید تشویش ہے اور اس نے بدسلوکی کے ان واقعات کا معاملہ عراقی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے۔

اوبزرور کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مشتبہ افراد کو جلانے، گلادبانے ، جنسی
بد سلوکی، ہاتھوں کو باندھ کر لٹکانے، جسم کےاعضاء کو توڑنےاور ایک کیس میں گھٹنے کی ہڈی توڑنے کے لیےالیکڑک ڈرل کے استعمال جیسے واقعات کے سلسلےمیں شواہد موجود ہیں۔

عراقی جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک امریکی وزارت دفاع عراقی پولیس
کو بندوقوں، ہتھیاروں، گاڑیوں وغیرہ کی مد میں ستائیس ملین پاؤنڈز دے چکی ہے۔

لیکن اوبزرور کا کہنا ہے کہ یہ امداد عراق کی وزارت داخلہ کو چلانے والے کمانڈوز کے ہاتھوں خرچ ہو چکی ہے۔

اخبار نے یہ الزام لگایا کہ ملک میں خفیہ قیدخانوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے۔’تشدد کا یہ سلسلہ عراق کی وزارت داخلہ کے اندر بھی جاری رہا‘۔

وزارت دفاع کےایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں جیسے ہی ان الزامات کے بارے میں علم ہوا ہم نے اس معاملے کو عراق کی حکومت کے سامنےاٹھایا‘۔

انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ عراقی حکومت اس معاملے کی تحقیقات اور اس واقعے میں ملوث افراد کوعہدوں اور ان کی حیثیتوں سےقطع نظرقرارواقعی سزا دے گی اور آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچاؤ کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ عراقی پولیس کو امداد کی فراہمی امریکہ کے ملک میں امن وامان کو قائم رکھنے کے مشن کا ایک اہم حصہ ہے۔

عراقی پولیس کے بھرتی سینٹر اور دیگرمقامات جہاں یہ اہلکار جمع ہوتے ہیں مزاحمت کاروں اور خودکش حملہ آوروں کا بنیادی نشانہ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد