تشدد کےواقعات: امریکی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ عراقی حکومت پر سکیورٹی فورسز کےمبینہ تشدد کےدعووں کی تحقیقات کےحوالے سے دباؤ ڈالےگی۔ یہ قدم ایک رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعداٹھایا گیا ہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ برطانوی امداد کاغلط استعمال ہو رہا ہے۔ برطانوی اخبار ’اوبزرور‘ کے مطابق امریکی اور برطانوی امداد جو دراصل عراقی پولیس کے لیے تھی، اسے فوج کے پیراملٹری کمانڈوز استعمال کررہے ہیں۔ اخبار کا دعوی ہے کہ اس نےمشتبہ لوگوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹیں دیکھی ہیں جو ان کے ساتھ شدید قسم کی بد سلوکی کو ظاہر کرتی ہیں۔ امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اسے اس بارے میں شدید تشویش ہے اور اس نے بدسلوکی کے ان واقعات کا معاملہ عراقی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے۔ اوبزرور کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مشتبہ افراد کو جلانے، گلادبانے ، جنسی عراقی جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک امریکی وزارت دفاع عراقی پولیس لیکن اوبزرور کا کہنا ہے کہ یہ امداد عراق کی وزارت داخلہ کو چلانے والے کمانڈوز کے ہاتھوں خرچ ہو چکی ہے۔ اخبار نے یہ الزام لگایا کہ ملک میں خفیہ قیدخانوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے۔’تشدد کا یہ سلسلہ عراق کی وزارت داخلہ کے اندر بھی جاری رہا‘۔ وزارت دفاع کےایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں جیسے ہی ان الزامات کے بارے میں علم ہوا ہم نے اس معاملے کو عراق کی حکومت کے سامنےاٹھایا‘۔ انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ عراقی حکومت اس معاملے کی تحقیقات اور اس واقعے میں ملوث افراد کوعہدوں اور ان کی حیثیتوں سےقطع نظرقرارواقعی سزا دے گی اور آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچاؤ کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ عراقی پولیس کو امداد کی فراہمی امریکہ کے ملک میں امن وامان کو قائم رکھنے کے مشن کا ایک اہم حصہ ہے۔ عراقی پولیس کے بھرتی سینٹر اور دیگرمقامات جہاں یہ اہلکار جمع ہوتے ہیں مزاحمت کاروں اور خودکش حملہ آوروں کا بنیادی نشانہ ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||