فوجیں عراق میں رہنی چاہئیں: بلیئر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ جب تک عراق میں کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ جاتا اتحادی افواج وہاں موجود رہنی چاہئیں۔ یہ بات انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازعہ کوئی زیادہ طویل عرصہ تک نہیں چلے گا اور دنیا بھر میں مزاحمت کاروں اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے مزاحمت کاری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہے۔ یاد رہے مسٹر بلیئر کے ان خیالات کے اظہار سے قبل گزشتہ روز امریکی صدر بش نے عراق سے فوجیں نکالنے کے نظام الاوقات کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ امریکی قبضے کے بعد امریکہ کے ہاتھوں عراقی حکومت کو اقتدار کی منتقلی کا پہلا سال مکمل ہونے کے موقع پر اپنے خصوصی خطاب میں امریکی صدر بش نے کہا تھا کہ امریکہ عراق میں جمہوریت کی مکمل بحالی تک اپنے عالمی فرائض سر انجام دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف عراق تازہ ترین میدان جنگ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ عراق میں مسلح مزاحمت کاروں کے وہی نظریات ہیں جو گیارہ ستمبر کے حملے کرنے والوں تھے اور اس سے قبل کہ یہ ہم پر ہمارے ملک میں کوئی حملہ کریں ہمیں انہیں بیرونی ممالک میں ہی ختم کرنا ہو گا۔ عراق سے فوجوں کے انخلا کے نظام الاوقات کا مطالبہ کرنے والوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے مزاحمت کاروں کو غلط پیغام ملے گا جو وقت کا تقاضہ نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||