فوجیوں پر بد سلوکی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ عراق میں تعینات اس کے گیارہ فوجیوں کے خلاف قیدیوں اور مشتبہ افراد کے ساتھ بد سلوکی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان الزامات کا تعلق ان اطلاعات سے ہے کہ فوجیوں نے ایک مشتبہ مزاحمت کار کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ ان تمام فوجیوں کا تعلق 184 انفنٹری سے ہے۔ یہ کیلی فورنیا سے ہیں اور یہ باقاعد فوجی نہیں بلکہ ’پارٹ ٹائم‘ ہیں۔ ان کے یونٹ کے ایک افسر نے کہا ہے کہ ان گیارہ افراد کے خلاف مقدمے سے پہلے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔تاہم انہوں نے مزید تفصیل بتانے سے انکار کیا۔ لیکن امریکی اخبار ’دی لاس اینجلیس ٹائمز‘ نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ان فوجیوں پر ایک الزام یہ ہے کہ انہوں نے سٹن گن استعمال کر کے ایک مشتبہ مزاحمت کار کو بجلی کے جھٹکے دیے تھے۔ اخبار کے مطابق کئی فوجیوں کے خلاف یہ الزامات بھی ہیں کہ انہوں نے عراقی تاجروں سے یہ کہہ کر بھتہ وصول کیا تھا کہ وہ تاجروں کو مزاحمت کاروں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یونٹ کے افسر نے بتایا ہے کہ ان گیارہ افراد کے خلاف ’آرٹیکل 32 سماعت‘ نامی یہ کارروائی بغداد میں ہو رہی ہے اور اس ہی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ان فوجیوں کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا ہوگا یا نہیں۔ یونٹ کے افسر نے بتایا ہے کہ یہ مبینہ جرائم کسی حراستی مرکز میں نہیں بلکہ اس وقت کیے گئے جب یہ افراد ایک فوجی آپریشن پر تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||