ایرانی پروگرام، عالمی تحفظات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران اب تک مغربی ممالک کی مخالفت کے باوجود اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کے عزم میں کامیاب رہا ہے۔ اس ہفتے ویانا میں اقوام متحدہ کے ایٹمی امور کے ادارے آئی اے ای اے کے اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعہ کے پھر شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ ایک اعلیٰ برطانوی اہلکار کے مطابق مغرب کا مقصد ایران کو جوہری توانائی کے حصول سے روکنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں سب سے بہتر یہی ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو معطل رکھنے کے حق میں عالمی اتفاق رائے قائم رکھا جائے‘۔ اہلکار نے مزید کہا کہ ’برطانیہ، جرمنی اور فرانس کا خیال ہے کہ آئی اے ای اے کو ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کرنا چاہیے۔ ہماری رائے میں کونسل کا کام ویانا میں ہونے والے اجلاس کے حق میں دباؤ ڈالنا ہے۔‘ لیکن اس تنازعہ کی تاریخ کی روشنی میں ابھی یہ بالکل واضح نہیں کہ ایران کو آئی اے ای اے کے ضوابط کی خلاف ورزی کی پاداش میں سلامتی کونسل کے سامنے جوابدہ ہونے پڑے گا یا نہیں۔
یورپی یونین کے ارکان جرمنی فرانس اور برطانیہ نے جنہیں ’ای یو تین‘ بھی کہا جاتا ہے ایران کو اپنی جوہری پروگرام ترک کرنے کی درخواست کی۔ انہیں امید تھی کہ ایران بھی کئی دوسرے ممالک کی طرح باہر سے جوہری ایندھن لینے پر رضامند ہو جائے گا۔ یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ مذاکرات اس وقت رک گئے جب اس سال ایران نے جوہری پروگرام پر کام دوبارہ شروع کر دیا۔ ایران کے عزائم واضح ہیں جن کا اظہار صدر احمدی نژاد نے بھرپور انداز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے اپنے خطاب میں کیا۔ اسی دوران امریکہ دباؤ نہیں ڈال سکا جو سن دو ہزار تین میں ایران کے جوہری پروگرام کے منظر عام پر آنے کے بعد اس معاملے کو فوری طور پر سلامتی کونسل میں لے جانا چاہتا تھا۔ ای یو تین اب مسئلے کو سلامتی کونسل کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن سب لوگ اس کے حق میں نہیں۔ کچھ ممالک جیسے کہ روس کا خیال ہے کہ کیونکہ اب ایران آئی اے ای اے سے تعاون کر رہا ہے اس کے جوہری توانائی پیدا کرنے کے حق کی بات جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت درست ہو سکتی ہے۔ ان ممالک کے خیال میں اب مسئلہ اتنا ہے کہ ایران پر نظر رکھی جائے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے جو وہ کہتا ہے کہ وہ ویسے بھی نہیں بنانا چاہتا۔ اس مرحلے پر اس معاملے کو سلامتی کونسل کے سامنے رکھنے کا مقصد پابندیاں لگوانا نہیں ہوگا۔ بلکہ سلامتی کونسل سے درخواست کی جائے گی کہ وہ ایران سے اس بنیاد پر اپنا پروگرام روکنے کے لیے کہے کہ ایک بار ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کے بعد اب اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کو بات ماننے کے لیے وقت دیا جائے گا۔
آرٹیکل دو غیر جوہری ریاستوں کو جوہری ہتھیار یا دیگر دھماکہ خیز جوہری مواد کی تیاری کے لیے کسی قسم کی معاونت لینے یا مانگنے سے منع کرتا ہے۔ یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے یورینیم کی افزودگی کے لیے مدد لی تھی۔ اگر امریکہ اور ای یو تین آسٹریلیا اور جاپان کی مدد سے اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو ایران ایک اور راؤنڈ جیت جائے گا۔ ایسا وقت آ سکتا ہے کہ مغرب ایران کے جوہری توانائی پیدا کرنے کے حق کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ایسی صورتحال میں مغرب کی کوششیں اس بات پر مرکوز ہوں گی کہ ایران جوہری توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہ کرے۔ اس کا واحد متبادل فوجی کارروائی ہوگا۔ یورپ اس کے خلاف ہے اور ابھی امریکہ بھی۔ اسرائیل نے بھی سفارتکاری کو ترجیح قرار دیا ہے۔ ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں ایک کمزوری کو، کہ اس میں شامل ممالک خود توانائی پیدا کر سکتے ہیں ہوشیاری سے استعمال کیا ہے۔ یہ اس لیے کمزوری ہے کہ اگر کوئی ملک یورینیم کو توانائی کے حصول کے لیے تیار کر سکتا ہے تو وہ اسے ایٹم بم بنانے کے لیے بھی بنا سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||