برطانیہ ایرانی صدر کے بیان سے مایوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے ایران کے صدر کے اس بیان کو غیر معاون قرار دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو جوہری توانائی پیدا کرنے کا حق حاصل ہے۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک کو ایٹمی توانائی کرنے کا حق حاصل ہے جس سے اسے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ایران کے صدر نے کہا تھا کہ اسلام میں جوہری ہتھیار بنانے کی ممانعت ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین چاہتے ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے۔ جیک سٹرا نے کہا کہ حال ہی میں ایران کے ساتھ اس کےجوہری پروگرام کے بارے میں ہونے والے مذاکرات کی روشنی میں ایرانی صدر کی تقریر مایوس کن تھی۔ برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق ایران کے صدر کے بیان سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کا ملک حال ہی میں طے پانے والے ایک معاہدے کا پاس کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام قانونی ہے اور اس کی مخالفت کرنا ’جوہری اپارتھیڈ(نسل پرستی)‘ ہے جس میں صرف چند ممالک کو جوہری افژودگی کا حق دیا جائے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے نام نہ بتائے جانے کی شرط پر صدر احمدی نژاد کے خطاب کو جارحانہ قرار دیا۔ برطانوی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی الجھا ہوا معاملہ ہے اور اسے حل کرنے کا واحد ذریعہ سفارتکاری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||