BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2004, 18:42 GMT 23:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلامی انقلاب کے پچس سال بعد
ایران میں پارلیمانی انتخابات سے قبل بی بی سی فارسی سروس کی نامہ نگار پونہ قدوسی اسلامی انقلاب کے پچس سال گذر جانے کے بعد ایرانی معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلوں کی عکاسی تہران میں ہونے والی ایک نجی سالگرہ کی تقریب کی رودا بیان کرکے کرتی ہیں۔

تہران میں کچھ دن قبل قیام کے دوران مجھے ایک سالگرہ کی تقریب میں مدعو کیا گیا۔

تقریب میں پہنچنے پر میں نے اپنے آپ کو ستر کے قریب رنگا رنگ لباسوں میں ملبوس نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان پایا۔ اعلیٰ اور متمول گھرانے سے تعلق رکھنے والے ان نوجوان لڑکے لڑکیوں میں سے چند مختلف کرداروں کے روپ بھی دھارے ہوئے تھے۔

ایک نے ٹارزن کا روپ دھارا ہوا تھا تو ایک اور مشہور امریکی فلم ٹاپ گن کے ہوابازوں کا لباس زیب تن کئے ہوئے تھا۔ کچھ مذہبی پیشواؤں اور مولویوں کے روپ بھی دھارے ہوئے تھے۔ تقریب میں مولویوں کا روپ دھارے ہوئے یہ نوجوان مدھم روشنیوں کے تلے شراب کے نشے میں تیز مغربی دھنوں پر ڈول رہے تھے۔

تقریب میں شامل کالی چادر اوڑھے ایک لڑکی نے اچانک چادر اتار دی اور نیچے اس نے چست مغربی لباس پہنے ہوئے تھا۔

اس سارے ہنگامے میں ایک طرف سے قمیض پر کالی بو لگائے ایک بیرا نمودار ہوا۔ ہاتھ میں مختلف قسم کی شرابوں کے جاموں سے بھری ایک ٹرے اٹھائے وہ مغربی موسیقی پر تھرکتے نوجوانوں کے درمیان سے اپنا راستہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس اثنا گلی کے طرف کھلنے والے دروازے اسلامی گارڈ کے کچھ اہلکاروں کے آنے کی اطلاع ملی۔ تقریب میں شامل مولویوں کے لبادا اوڑھے ایک نوجوان باہر گیا اور گارڈز کی مٹھی گرم کر کے واپس آ گیا۔ گارڈز بھی وہاں سے خاموشی سے چلے گئے۔

یہ نوجوان ایک ایسے معاشرے میں پل کر جوان ہوئے ہیں جہاں انفرادی آزادی پر ہر قسم کی سرکاری پابندی عائد ہے۔ لیکن سالگرہ میں شرکت کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے ان پابندیوں میں جینے کا فن سیکھ لیا ہے۔

ایران میں رائج اسلامی قوانین کے تحت لڑکیوں کا غیر مردوں کے ساتھ گھومنا منع ہے لیکن اب تہران کے گلی کوچوں میں نوجوان لڑکے لڑکیاں بانہوں میں بانہیں ڈالے آزادانہ گھومتے نظر آتے ہیں۔

انقلاب کے ابتدائی دنوں میں اسلامی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جاتا تھا لیکن اب نہیں۔ لباس پر عائد پابندیوں کی بھی پاسداری نہیں کی جاتی۔ لڑکیوں نے بے ہنگم کالی چادروں کی جگہ اب جینز اور ’شارٹ‘ کوٹ پہننے شروع کر دئے ہیں۔

یوں تو سرکاری طور پرشراب پر پابندی عائد ہے لیکن گھریلو طور پر کشید کی گئی مقامی شراب سے لے کر عمدہ قسم کی سمگل شدہ شراب بھی آسانی سے دستیاب ہوجاتی ہے۔

اسی طرح منشیات بھی مل جاتی ہیں جن میں افغانستان سے سمگل ہوکر آنے والی ہیروئن کے علاوہ ’ڈیزائنر ڈرگز‘ بھی مل جاتی ہیں۔ تہران میں اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو ہر شے دستیاب ہو سکتی ہے۔

چھ سال پہلے صدر خاتمی ایک بہت بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے منتخب ہوئے تھے۔ منتخب ہونے کے ساتھ ہی وہ بہت سی اصلاحات کرنا چاہتے لیکن ان کے یہ منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ تہران میں نوجوان اب سیاست میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ اپنے حال میں مست ہیں اور کل کیا ہونے والا اس کی انہیں بالکل پرواہ نہیں۔ وہ اپنا آج بھر پور طریقے سے جینا چاہتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد