BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 October, 2005, 01:26 GMT 06:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی الزام جھوٹ ہے: ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی
ایران نے اس برطانوی الزام کو مسترد کردیا ہے کہ اس کے انقلابی گارڈز عراق میں دھماکہ خیز مواد اسمگل کررہے ہیں جن کا استعمال اس بم دھماکے میں کیا گیا تھا جس میں آٹھ برطانوی فوجی ہلاک ہوگئے۔

تہران میں ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے برطانوی الزامات کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ برطانیہ ان الزامات کے شواہد پیش کرے۔ ترجمان نے کہا کہ ایران نہیں بلکہ برطانیہ عراق میں عدم استحکام اور افراتفری کے لئے ذمہ دار ہے۔

اس سے قبل ایک اعلی برطانوی افسر نے کہا تھا کہ جنوبی عراق میں برطانوی فوجیوں کی ہلاکت ان ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد سے ہوئی جو لبنان میں موجود شدت پسندوں سے عراق پہنچے تھے۔ برطانوی افسر کے مطابق لبنانی شدت پسندوں کو یہ ہتھیار اور دھماکہ خیزمواد ایران کے انقلابی گارڈز نے مہیا کیے ہوئے ہیں۔

برطانیہ نے ایرانی حکام کے سامنے یہ براہ راست مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں ہتھیاروں کی آمد کو روکیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ برطانوی افسر نے بتایا کہ ’یہ ٹیکنالوجی حزب اللہ کی تھی اور لبنان سے ایران اور وہاں سے عراق پہنچی اور اس کے نتیجے میں نہایت طاقتور دھماکہ خیز مواد تیار ہوا۔‘

لیکن ایرانی ترجمان نے برطانوی الزامات کو غلط قرار دیا۔ ایرانین ٹی وی پر بولتے ہوئے حامد رضا آصفی نے کہا: ’یہ ایک جھوٹ ہے۔ برطانوی عراق میں کرائسِس اور عدم استحکام کی وجہ ہیں۔‘

ایرانی ترجمان کا کہنا تھا: ’آغاز سے ہی ہم نے اپنا موقف واضح رکھا ہے، ایک مستحکم عراق ہمارے مفاد میں ہے اور یہی بات عراقی حکام نے بھی کئی بار کہی ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد