مزاحمت کار: جنگی جرائم کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ عراقی مزاحمت کار بھی سویلین آبادی کو نشانہ بنا کر جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کررہی ہیں، لیکن سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ مسلح افواج اور مسلح مزاحمت کارروں کو جنگ کے اصولوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ہیومن رائٹس واچ نے مزاحمت کارروں کے حمایتی سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں سے کہا ہے کہ سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کی مذمت کریں۔ ہیومن رائٹس واچ نے القاعدہ، انصار السنہ اور اسلامک آرمی کو سویلین آبادی پر حملے کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ہیومن رائٹس واچ نے نے اپنی رپورٹ میں سرکاری اہلکاروں، سیاستدانوں اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی مساجد اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات کو اپنی رپورٹ میں پیش کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||