شدت پسند گروہوں کا خبرنامہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شدت پسند اسلامی گروہوں نے اپنا ہفتہ وار خبرنامہ ویب کاسٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ مغرب اور امریکہ کی مخالفت میں سائبر سپیس کے استعمال کی تازہ ترین کوشش ہے۔ یہ ویب کاسٹ اسلامی ویب سائٹوں پر مختلف فورمز پر دکھائی جاتی ہے۔ یہ فورم جہاد اور اس سے متعلقہ معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ یہ ویب کاسٹ گلوبل اسلامک میڈیا فرنٹ نامی ایک گروہ نے جاری کی ہے جو القاعدہ کے نظریات سے متاثر اسلامی شدت پسند گروہوں کے لیے ایک نمائندے کا کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ویب کاسٹ خبرنامے کے پہلے بلیٹن میں ایک نقاب پوش نیوز ریڈر نے خبریں پڑھیں جبکہ اس کے پس منظر میں ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ خبروں کا آغاز ایک مردانہ آواز میں ہوا اور نیوز ریڈر کا کہنا تھا کہ ’ ’صوت الخلافہ‘ کی ٹیم امتِ مسلمہ کو سر زمینِ فلسطین سے صیہونیوں کے قبضے کے خاتمے پر مبارکباد دیتی ہے‘۔ اس بلیٹن میں شامل خبروں میں اسرائیل کے غزہ سے انخلاء کے علاوہ عراق میں شدت پسندوں کے حملے اور ابومصعب الزرقاوی کے بیانات شامل تھے۔ اس کے علاوہ اس خبرنامے میں امریکی سمندری طوفان کے بارے میں خبر شامل تھی جسے نیوز ریڈر نے امریکہ پر خدائی عذاب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہزیمت کے شکار بے وقوف جارج بش نے اللہ کے اس عذاب سے نمٹنے سے معذوری ظاہر کی جو کہ ہم جنس پرستوں کے شہر پر نازل ہوا‘۔ اس خبرنامے کی ویب کاسٹ کے پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ وہ اس عمل کو ہفتہ وار بنیادوں پر جاری رکھیں گے۔ اسلامی ویب سائٹوں کا تجزیہ کرنے والے برطانوی ماہر نیل ڈائل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں اس براڈکاسٹ کے پیچھےگلوبل اسلامک میڈیا فرنٹ نامی گروہ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ انہوں نے متعدد شدت پسند اسلامی گروہوں کے بیانات اور ویڈیو کو ایک جگہ دکھانے کا انتظام کیا ہے‘۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس گروہ کا تعلق کہاں سے ہے تاہم یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ براڈکاسٹ کسی مغربی ملک سے کی گئی۔ خفیہ اداروں کے لیے ایسے ویڈیو کی ماخذ کا پتہ چلانا مشکل ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں بہت سی ایسی ویب سائٹوں کو بند کیا گیا ہے جو شدت پسند خیالات کا پرچار کرتی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||