BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 November, 2005, 03:48 GMT 08:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران:جوہری معائنے پر رضامند
اقوام متحدہ کا گزشتہ ایک برس سے ان تنصیبات تک رسائی کی کوشش کر رہا تھا۔
ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو پارچن کے فوجی علاقے میں جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے دی ہے۔

اقوام متحدہ کا جوہری توانائی کا ادارہ آئی اے ای اے گزشتہ ایک برس سے ان تنصیبات تک رسائی کی کوشش کر رہا تھا تاکہ امریکی کی تصدیق کر سکے کہ ایران وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے پارچن کے علاقے میں قائم جوہری تنصیبات میں جوہری ہتھیار بنانے کے مختلف ٹیسٹ کیے۔

ویانا سے بی بی سی کے نمائندے نے یورپی سفارت کارروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کی طرف سے پارچن میں تنصیبات کے معائنے کی اجازت مثبت قدم ہے اور ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں دنیا کے تحفظات پر توجہ دے رہا ہے۔

پارچن کی تنصیبات کی اجازت دینے کے ساتھ ایران نے کہا کہ وہ یورینیم کی افزاودگی کی طرف ایک اور قدم اٹھائے گا۔

آئی اے ای اے نے ایران کو دھمکی دے رکھی کہ اگر اس نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کی تو وہ اس کے کیس سلامتی کونسل کو بھیج دے گا۔

ادھر ایران کے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ چالیس سفارت کارروں کو برخاست کر رہا ہے۔ برخاست کیے جانے والوں میں وہ سفارت کار بھی شامل ہیں جو ایران کے یورپی ممالک کے اچھے تعلقات کے حامی ہیں۔

نکالے جانے والے سفارتکار سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں تعینات کیے گئے تھے اور وہ ایران کے جوھری پروگرام پر مغربی دنیا کے ساتھ مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

ایران نے برطانیہ، فرانس، جرمنی، جنیوا اور اقوام متحدہ میں ایرانی سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔

66کشیدگی کے بادل
ایٹمی توانائی: ایران کا اصرار، مغرب کے خدشات
66جوہری ایران
پالیمان نے پروگرام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے
66ایران، بش کا ہدف
امریکی کمانڈو چھ ماہ سے ایران میں موجود ہیں
66ایران: سب ملتا ہے
پیسہ ہونا چاہئے تہران میں بھی ہر شے میسر ہے
اسی بارے میں
’ایران سر نہیں جھکائےگا‘
20 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد