ایران:جوہری معائنے پر رضامند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو پارچن کے فوجی علاقے میں جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے دی ہے۔ اقوام متحدہ کا جوہری توانائی کا ادارہ آئی اے ای اے گزشتہ ایک برس سے ان تنصیبات تک رسائی کی کوشش کر رہا تھا تاکہ امریکی کی تصدیق کر سکے کہ ایران وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے پارچن کے علاقے میں قائم جوہری تنصیبات میں جوہری ہتھیار بنانے کے مختلف ٹیسٹ کیے۔ ویانا سے بی بی سی کے نمائندے نے یورپی سفارت کارروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کی طرف سے پارچن میں تنصیبات کے معائنے کی اجازت مثبت قدم ہے اور ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں دنیا کے تحفظات پر توجہ دے رہا ہے۔ پارچن کی تنصیبات کی اجازت دینے کے ساتھ ایران نے کہا کہ وہ یورینیم کی افزاودگی کی طرف ایک اور قدم اٹھائے گا۔ آئی اے ای اے نے ایران کو دھمکی دے رکھی کہ اگر اس نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کی تو وہ اس کے کیس سلامتی کونسل کو بھیج دے گا۔ ادھر ایران کے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ چالیس سفارت کارروں کو برخاست کر رہا ہے۔ برخاست کیے جانے والوں میں وہ سفارت کار بھی شامل ہیں جو ایران کے یورپی ممالک کے اچھے تعلقات کے حامی ہیں۔ نکالے جانے والے سفارتکار سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں تعینات کیے گئے تھے اور وہ ایران کے جوھری پروگرام پر مغربی دنیا کے ساتھ مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ایران نے برطانیہ، فرانس، جرمنی، جنیوا اور اقوام متحدہ میں ایرانی سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ایران سے جوہری تعاون ختم کریں‘03 October, 2005 | آس پاس ’ایران سر نہیں جھکائےگا‘20 September, 2005 | آس پاس ’ایران: ابھی ایٹمی ہتھیاروں سےدور‘06 September, 2005 | آس پاس پابندیوں کی دھمکی نہ دیں: ایران19 September, 2005 | آس پاس احمدی نژاد کو ویزا دیں گے: صدر بش12 August, 2005 | آس پاس ایرانی موقف:یورپی یونین کی نرمی22 September, 2005 | آس پاس ’بم دھماکے میں ایران ملوث تھا‘05 October, 2005 | آس پاس برطانوی الزام جھوٹ ہے: ایران06 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||