BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہم ملکوں سے ایرانی سفیر واپس طلب
احمدی نژاد
خیال کیا جاتا ہے کہ صدر احمدی نژاد اپنے پسندیدہ سفارتکاروں کو آگے لانا چاہتے ہیں
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اہم مغربی ممالک میں ایران کے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔ اس سلسے میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، جنیوا اور اقوام متحدہ میں ایرانی سفیروں کے تبادلے کیے جا رہے ہیں۔

ایران کے یہ سفارتکار سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں ایران کے جوھری پروگرام پر مغربی دنیا کے ساتھ مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔اس لیے نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان سفیروں کے ہٹائے جانے سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں سخت موقف اختیار کرنے جا رہا ہے۔

صدر احمدی نژاد نے جون میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ایران کی خارجہ پالیسی میں سختی پیدا کرنا شروع کر دی تھی۔ اقوام متحدہ میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے کئی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔ کہا جاتا ہے کہ صدر احمدی نژاد کا اشارہ ایران کے جوہری پروگرام کے طرف تھا۔

گزشتہ ہفتے بھی ان کے اس بیان نے کہ اسرائیل کو’دنیا کے نقشے سے مٹا دینا چاہیے‘ بین الاقوامی سطح پر خاصی بحث کو جنم دیا تھا۔

بی بی سی کے ایرانی امور کے تجزیہ نگار صادق صبا کا کہنا ہے کہ ان تجربہ کاراورمعتدل سفارتکاروں کے تبادلوں سے مغربی ممالک میں خدشات پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور اس وقت میں جب ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے۔

گزشتہ کچھ ماہ سے برطانیہ، فرانس اور جرمنی بین الاقوامی سطح پر کوششیں کرتے رہے ہیں کہ وہ کسی طرح ایران کو اس بات پر راضی کر لیں کہ وہ اپنے جوہری عزائم کی نوعیت اورحد کے بارے میں واضح بات کرے۔تاہم امریکہ ایران پر الزام لگا رہا کہ وہ جوہری ہتھیار بنا رہا ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام جائز اور اس کامقصد جوہری توانائی پیدا کرنا ہے۔

مغربی ممالک کے ساتھ ایران کے مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ایران نے بین الا قوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ایک مرکزی جوہری پلانٹ پر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دی۔

اپنی ذمہ داریوں سے ہٹائے جانے زیادہ تر سفارتکار سابق صدر خاتمی کی حکومت کے خیالات کے حامی تھے۔

لندن میں ایرانی سفیر محمد حسین عادلی امریکہ سے پڑھے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنا عہدہ 2004 میں سنبھالا تھا۔

ایران کے سرکاری اخبارات حسین عادلی پر مالی بدعنوانی اور ایران کے قومی مفادات کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگا تے رہے ہیں تاہم وہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلے ایرانی سفارتکار ہیں جو روانی سے انگریزی بول سکتے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبر رسان ایجنسی’ارنا‘ کے مطابق حسین عادلی نے قبل از وقت ریٹائر ہونے کی درخواست کی ہے اور انہوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بیان کی۔

محمد حسین عادلی صرف ایک سال تک لندن میں ایران کے سفیر رہے

برطانیہ کے روزنامے ’دی ٹائمز‘ کے مطابق اس مہم کے دوران تقریباً بیس ایرانی سفارتکاروں پر ’قینچی چلے گی‘۔

سینٹ اینڈریو یونیورسٹی میں ایران پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر علی انصاری کا کہنا ہے کہ سفارتکاروں کی برطرفیاں اور تبادلے امحد نژاد حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

دی ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر انصاری نے کہا ’ یہ خود کو دنیا سے الگ کرلینے والی حکومت کا مخصوص رجحان ہے کہ وہ اس قسم کے مسائل پیدا کر لیتی ہے اور اپنے بہترین سفارتکاروں کی چھٹی کرا دیتی ہے، خاص طور پرایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر بھی اس ملک کے لیے حالات خاصے خراب ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد