BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 November, 2005, 02:23 GMT 07:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران کے ساتھ ڈِیل نہیں ہوئی‘
فائل فوٹو
برطانیہ نے اس طرح کے معاہدے کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈیلیزا رائس نے ایسی اطلاعات کی تردید کی ہے کہ امریکہ اور یورپ کا ایران کے ساتھ اسے محدود سطح پر اپنا نیوکلئیر پروگرام جاری رکھنے کے سلسلے میں ایک معاہدہ ہوگیا ہے۔

مس رائس نے صحافیوں کو بتایا کہ ’امریکہ اور یورپ کی ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا کوئی تجویز نہیں ہے ، میں یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتی ہوں۔‘

کچھ سفارتی ذرائع نے اپنا نام ظاہر کئے بغیر اس معاہدے سے متعلق یہ تفصیلات بتائی ہیں کہ اس کے تحت ایران کو یورنیم کو گیس میں تبدیلی کرنے کی اجازت ہوگی جو وہ اس برس اگست سے کررہا تھا جبکہ یورنیم کی افزودگی روس میں کی جائے گی۔

پچھلے ہفتے اقوام متحدہ کے ایٹمی توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادئی نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ نیوکلئیر توانائی کا ایک عالمی ذخیرہ قائم کیا جانا چاہئیے تاکہ ممالک کو انفرادی طور پر اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے میں دشواریاں نہ ہوں۔

ایران نے اس سلسلے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے نیوکلئیر چیف نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ محمد البرادئی جو آئی اےای اے کے سربراہ ہیں، کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’انہیں امید ہے کہ اگلے چند روز میں عالمی برادری اس معاملے کا کوئی ایسا حل نکالنے میں کامیاب ہوجائے گی جو ایران سمیت تمام ممالک کو منظور ہو۔‘

برطانیہ نے بھی، جو یورپ کے ان تین ممالک میں شامل ہے جو ایران سے بات چیت کررہے ہیں، اس امکان کو رو نہیں کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ ابھی غیر رسمی طور پر زیر بحث ہے اور اس کی تکنیکی تفصیلات طے کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار برائے سفارتی امور برجیٹ کینڈل کا کہنا ہے کہ دونوں طرف کے فریقین معاملے کے حل کے لئے متحرک اس لئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ دو ہفتے بعد ویانا میں ہونے والی اہم بات چیت سے پہلے وہ اپنے رویوں میں لچکداری کا مظاہرہ کر سکیں۔

تاہم ابھی تک امریکہ کا اصرار ہے کہ وہ ایسے کسی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

امریکہ کا خیال ہے کہ ایران نیوکلئیر بم بنانا چاہتا ہے اور وہ اسے اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں لے جانا چاہتا ہے۔

ستمبر میں آئی اے ای اے نے اس سلسلے میں ایک قراردار بھی منظور کرلی تھی جس کے بعد ایران کے معاملے کو سیکورٹی کونسل میں بھیجا جسکتا ہے لیکن ادارے نے اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد