ایران: یورینیم افزودگی پر اصرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ غلام رضا آغازادہ نے یورنیم کی افزودگی ایران ہی میں کرنے کے حق پر اصرار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی خود اپنی ہی زمین پر کرے۔ غلام رضا آغازادہ نے اس امکان کو مسترد کر دیا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کہیں اور کرنے کی پیشکش پر مفاہمت کر لے گا۔ ایرانی ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ نے یہ بیان اس وقت دیا جب روس کے کے نمائندے ایگور آئینوف روس کا دورہ کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایگور آئینوف یہ منصوبہ لے کر ایران گئے ہیں کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے تاہم اس کے لیے اسے یہ شرط قبول کرنے پڑے گی کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا حساس ترین عمل کسی اور ملک میں مکمل کرے۔ کہا جاتا ہے کہ روس کی اس تجویز کو مغربی ملکوں کی تائید یا حمایت حاصل ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن ہے جب کہ امریکہ مسلسل یہ الزام لگا رہا ہے کہ ایران ایٹیمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’ایران کے ساتھ ڈِیل نہیں ہوئی‘11 November, 2005 | آس پاس یورپی یونین: ایرانی پیشکش کا جائزہ 07 November, 2005 | آس پاس کوفی عنان نے ایران کا دورہ رد کردیا05 November, 2005 | آس پاس ایران:جوہری معائنے پر رضامند03 November, 2005 | آس پاس سلامتی کونسل: ایران کی مذمت29 October, 2005 | آس پاس احمدی نژاد کے بیان کی مذمت28 October, 2005 | آس پاس برطانوی الزام جھوٹ ہے: ایران06 October, 2005 | آس پاس ’ایران سے جوہری تعاون ختم کریں‘03 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||