احمدی نژاد کے بیان کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر احمدی نژاد کے اس بیان کے بعد کہ اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹ جانا چاہیے، عالمی سطح پر ایران کی مذمت جاری ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ ایران کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس نے بھی اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر دستخط کیے ہے جس کے تحت وہ پابند ہے کہ کسی ملک کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی نہ دے۔ ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ ایران کو اقوامِ متحدہ سے باہر نکال دے۔ برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ایران کا بیان ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایسا بیان ہے جس سے جذبات کو دھچکا لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران حقیقتاً خطرہ بن سکتا ہے۔بی بی سی کے سیاسی امور کے ایڈیٹر نک رابنسن کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم بلیئر کے الفاظ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا اشارہ ملفوف ہے۔ برطانیہ نے ایران کے خلاف رسمی طور پر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ تاہم ایران نے کہ کہا کہ مغربی دنیا اسرائیل کے ’جرائم‘ پر چشم پوشی کر رہی ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مغرب میں واقع ایران کے سفارت خانے ’صیہونی جرائم‘ پر یورپی رویے کے خلاف احتجاج کریں گے۔ تاہم اس بیان میں صدر احمدی نژاد کے متنازعہ جملوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتِ حال کی ذمہ داری (مغربی دنیا کی طرف سے) اسرائیل کی مسلسل حمایت پر عائد ہوتی ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار نے تہران سے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ ایران اپنے پہلے بیان سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ انہوں نے ایرانی ریڈیو پر ایک تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر احمدی نژاد نے ، اس تبصرے کے بقول، کوئی نئی بات نہیں کی ہے۔ البتہ اس تبصرے میں شکایت کی گئی کہ مغرب نے احمدی نژاد کے بیان پر ضرورت سے زیادہ ردِ عمل کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ مغربی دنیا عالمی سطح پر ایران کے تصور کو داغدار بنانا چاہتی ہے اور رائے عامہ کو باور کرانا چاہتی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اس سے پہلے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لیوروف سے ملاقات کے بعد کہا کہ اقوامِ متحدہ ایران کو ادارے سے باہر نکال دے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنا لیے تو نہ صرف اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ | اسی بارے میں ’بم دھماکے میں ایران ملوث تھا‘05 October, 2005 | آس پاس پابندیوں کی دھمکی نہ دیں: ایران19 September, 2005 | آس پاس برطانوی الزام جھوٹ ہے: ایران06 October, 2005 | آس پاس ایرانی موقف:یورپی یونین کی نرمی22 September, 2005 | آس پاس احمدی نژاد کو ویزا دیں گے: صدر بش12 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||