’ایران افزودگی کا عمل تیز کر رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی جوہری ادارے ’آئی اے ای اے‘ کی نئی رپورٹ کے مطابق ایران یورینیم افزودہ کرنے کے کام کو آگے بڑھاتا جا رہا ہے۔ عالمی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی کے مطابق ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کے لیئے پندرہ فروری سے ایک’10 مشین کیسکیڈ‘ استعمال کرنا شروع کیا اور وہ اب ایک ’20 مشین کیسکیڈ‘ کا تجربہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدم تعاون کی موجودہ صورتحال اور ایران کے اس عمل کے پیشِ نظر یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران کے مقاصد واقعی پُرامن ہیں۔ ادھر ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے دورۂ جاپان کے دوران ایران کے اس عزم کو دہرایا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کے پروگرام کو جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ اس معاملے پر روس اور ایران کے مذاکرات کے بعد ایران کے جوہری عزائم کے بارے میں دنیا کو لاحق خدشات میں کمی آئےگی۔ جاپان جو کہ اپنی تیل کی درآمدات کا چھٹا حصہ ایران سے لیتا ہے اس مسئلے پر آئی اے ای اے کی اگلے ہفتے ہونے والی میٹنگ سے پہلے کسی سمجھوتے کا حامی ہے۔ جاپان اس وقت آئی اے ای اے کا سربراہ بھی ہے۔ تاہم ٹوکیو سے بی بی سی کے نمائندے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات میں سرد مہری نظر آ رہی ہے۔ جاپان کے وزیر خارجہ تارو آسو نے کہا ہے کہ اگر ایران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں دشمن بنائے گا تو جاپان کے لیئے دوستی جاری رکھنے کی بھی ایک ہے۔ یاد رہے کہ عالمی جوہری ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادارے کے تفتیشی کام کے تین سال بعد بھی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کا جواب نہیں مل سکا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارے کے معائنہ کاروں کو جوہری مواد کے کسی الگ کام کے لیئے بھیجے جانے کا سراغ تو نہیں ملا لیکن پھر بھی وہ یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایران میں کوئی خفیہ جوہری کارروائی نہیں ہو رہی۔ محمد البرادعی کی اس نئی رپورٹ کا جائزہ چھ مارچ کو عالمی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں لیا جائے گا۔ دریں اثناء روس کے ساتھ یورینیم افزودہ کرنے کے مشترکہ منصوبے پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیئے علی حسینی تاش کی قیادت میں ایک ایرانی وفد منگل کو روس پہنچ رہا ہے۔ دو روز پہلے ایران نے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے اس مشترکہ منصوبے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے لیکن اگلے ہی روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوراؤ نے ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی مشترکہ منصوبے کے لیئے پہلے ایران کو اپنے یورینیم افزودہ کرنے کا عمل ختم کرنا پڑے گا۔ اس قسم کے کسی معاہدے کے بارے میں امریکہ اپنے تحفظات رکھتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ایڈم ایلی کا کہنا ہے کہہ ’صاف بات ہے کہ میرے علم کے مطابق کوئی سمجھوتا نہیں ہوا ہے‘۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایران پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں پوری معلومات فراہم نہیں کرتا اور وہ دراصل جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن ہے اور یہ محض ایک سویلین جوہری پروگرام ہے۔ | اسی بارے میں حماس کی مدد کریں گے: ایران23 February, 2006 | آس پاس ایران روس جوہری مذاکرت ختم21 February, 2006 | آس پاس ’معاملہ نازک ہے، بحرانی نہیں‘03 February, 2006 | آس پاس ’ عدم پھیلاؤ معاہدہ چھوڑ سکتے ہیں‘11 February, 2006 | آس پاس ایران کا جوہری پروگرام ’فوجی‘ ہے 16 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||