’ عدم پھیلاؤ معاہدہ چھوڑ سکتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے جوہری پروگرام پر پابندیاں لگانے کی کوششیں جاری رکھی گئیں تو وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکلنے کا سوچ سکتا ہے۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے عوام کے حقوق کو غضب کرنے کی کوششیں جاری رکھی گئیں تو ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے بارے میں اپنی پالیسی پر از سر نو غور کرے گا۔ ایران دنیا کے ان 187 ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اس معاہدے کے وہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کر سکتا ہے لیکن وہ جوہری ہتھیار بنانے کا اہل نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے نے چار فروری کو ایران کا معاملہ سکیورٹی کونسل کے حوالے کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ جوہری توانائی کا حصول اس کا حق ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ |
اسی بارے میں طیارہ عمارت سے ٹکرا کر تباہ06 December, 2005 | صفحۂ اول ویڈیو دیکھیں: طیارہ عمارت سے ٹکراگیا06 December, 2005 | صفحۂ اول آئی اے ای اے کی قرارداد 24 September, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||