اسرائیل کو یہاں سے ہٹائیں: ایران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے سخت گیر صدر نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اس خطے سے ہٹا کر یورپ میں لے جانا چاہیے۔ محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اگر جرمنی اور آسٹریا اس مسئلے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ اسرائیل کے لیے اپنی زمین میں سے جگہ دے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ نے ان پر دباؤ ڈالا تھا، اس لیے اب انہیں یہودی ریاست کے لیے یورپ کا کچھ حصہ دیں تاکہ وہ اپنی مرضی کی ریاست قائم کر سکیں‘۔ ایرانی صدر کے ان خیالات کی اسرائیل اور امریکہ نے فوری طور پر مذمت کی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ریگیو نے کہا کہ ’بد قسمتی سے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایران کے صدر نے اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ صرف اسرائیل کے لیے ہی مسئلہ نہیں ہیں۔ وہ ساری عالمی برادری کے لیے ایک پریشانی ہیں‘۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ مک لیلن نے ایرانی صدر کے اس بیان کے بارے میں کہا ہے کہ ’یہ اس حکومت کے بارے میں ہمارے خدشات کو مزید تقویت دے رہا ہے۔ یہ ایک اور وجہ ہے کہ اس ملک کے پاس ایٹمی اسلحہ کیوں نہیں ہونا چاہیے‘۔ ایران کے صدر کے ان خیالات کی فرانس کے صدر جیکوس شیراک اور جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکر نے بھی اپنی برلن کی ملاقات کے دوران مذمت کی ہے۔ مس اینجلا نے کہا کہ ’ایرانی صدر کا بیان بالکل ناقابل قبول ہے‘۔ اکتوبر میں بھی صدر احمدی نژاد نے اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے ختم کرنے کی بات کر کے ایک ہلچل مچا دی تھی۔ اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے یورپی حکومتوں پر ماضی میں یہودیوں کے قتل و غارت کی وجہ سے اسرائیل کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’کیا یہ درست نہیں ہے کہ یورپی ممالک کہتے ہیں انہوں نے یہودیوں کا قتل عام کیا؟ وہ کہتے ہیں کہ ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کو بھٹیوں میں پھینکوا دیا اور انہیں جلا وطن کر دیا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’چونکہ دوسری جنگ عظیم میں یورپیوں نے یہودیوں کے ساتھ زیادتی کی تھی اس لیے اب انہیں یروشلم کی غاصبانہ حکومت کا ساتھ دینا ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کرتے‘۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’فلسطین پر قبضہ کرنے والے کہاں سے آئے ہیں؟ وہ کہاں پیدا ہوئے تھے؟ ان کے آبا ؤ اجداد کہاں رہتے تھے؟ فلسطین میں ان کی جڑیں نہیں ہیں، لیکن انہوں نے اس پر قبضہ کیا ہوا ہے‘۔ انہوں نے فلسطین کے لوگوں کے حقوق کے بارے میں کہا کہ ’ کیا قومی حق خود ارادیت اقوام متحدہ کے منشور کا ایک اصول نہیں ہے؟ تو پھر فلسطینیوں کو اس حق سے محروم کیوں کیا جا رہا ہے‘؟ ایرانی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران ایٹمی پروگرام کے تنازعے کا شکارے ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف توانائی کا حصول چاہتا ہے لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی اسلحہ تیار کرنا چاہتا ہے۔ |
اسی بارے میں ایران کے لیے روسی میزائل 06 December, 2005 | آس پاس ایران: نئے ایٹمی بجلی گھرکی تعمیر05 December, 2005 | آس پاس مذاکرات میں ایرانی عدم دلچسپی04 December, 2005 | آس پاس حق سےمحروم نہیں کیا جا سکتا: ایران26 November, 2005 | آس پاس امریکہ عراق سے نکل جائے: ایران22 November, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||