BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 November, 2005, 20:47 GMT 01:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ عراق سے نکل جائے: ایران
جلال طالبانی اور آیت اللہ خامنہ ای
جلال طالبانی کا کہنا ہے کہ انہیں ایران سے تعاون کی امید ہے
ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کے دورے پر آئے ہوئے عراقی صدر سے کہا ہے کہ وہ امریکی فوج کی جلد واپسی کے لیے دباؤ ڈالیں۔

انہوں نے عراقی صدر سے یہ بھی کہا کہ عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد اور بدامنی کا ذمہ دار امریکہ ہے۔

عراقی صدر جلال طالبانی ان دنوں ایران کے تاریخی دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ گزشتہ 40 سال میں کسی عراقی رہنما کی جانب سے ایران کا پہلا دورہ ہے۔

پیر کے روز انہوں نے ایران کے صدر محمد احمدی نژاد سے ملاقات کی، جنہوں نے عراق کی آزادی کے لیے پورے تعاون کا یقین دلایا۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ کو عراق میں بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے کہا ’اسلامی جمہوریہ ایران عراقی لوگوں کے مصائب، اور عراق میں جاری تمام جرائم اور قتل و غارت کا ذمہ دار امریکی حکومت کو ٹھہراتا ہے۔ عراق میں غیر ملکی فوج کی موجودگی عراقی لوگوں کے لیے نقصان دہ ہے اور عراقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک معینہ ٹائم ٹیبل کا اعلان کر کے ان پر واپسی کے لیے دباؤ ڈالے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’بالآخر امریکہ اور برطانیہ کو ایک تلخ تجربے کے ساتھ عراق کو چھوڑنا ہوگا‘۔

ایران کے شیعہ حلقے عراق کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ 2003 میں صدر صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس مکتبۂ فکر کو شیعہ کرد اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔

لیکن کچھ ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ تہران عراق میں امریکہ اور اتحادی افواج کے خلاف بر سر پیکار شیعہ گروپوں کی امداد کر رہا ہے۔ لیکن عراق کے صدر جلال طالبانی جو کہ ایک کرد ہیں، ایران پر الزام لگانے میں محتاط ہیں۔

عراقی صدر کا کہنا ہے ’ہم عراق کے لیے ایرانی حکومت اور عوام کی مدد کو کبھی نہیں بھولیں گے اور ہم امید کرتے ہیں کہ تمام شعبوں میں ہمارے تعلقات میں بہتری آئے گی‘۔

تہران میں بی بی سی کے نمائندہ فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران در پردہ عراقی حکام ایران پر خفیہ معلومات کے تبادلے اور دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کو مزید محفوظ بنانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔

عوامی سطح پر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ عراق کی سلامتی اب ایران کی سلامتی ہے۔ انہوں نے عراق کی منتخب حکومت کی تعریف کی ہے۔

اسی بارے میں
ایران کی یورپی یونین کو تنبیہ
11 September, 2005 | صفحۂ اول
آئی اے ای اے کی قرارداد
24 September, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد