عراق: نئے آئین کے لیے رائے شماری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ملک کے مجوزہ آئین کے لیے ہونے والی رائے شماری میں نتیجہ چند روز میں متوقع ہے۔ سنیچر کو عراق میں آئین کے بارے میں لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ہونے والی رائے شماری کے بعد ووٹوں کے گنتی جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق عراق میں رائے شماری کے دوران تشدد کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ اس سے قبل جنوری میں انتخابات کے دوران مزاحمت کاروں نے کئی شدید حملے کیے تھے۔ رائے شماری کے دوران سب سے بڑا واقعہ ایرانی سرحد کے قریب پیش آیا جہاں بم پھٹنے سے تین فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ بغداد کے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر فائرنگ ہوئی ہے۔ پولنگ کے اختتام پر بغداد میں کچھ لوگوں نے خوشی کے اظہار کے لیے فائرنگ کی۔ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک ووٹر جیلان شاکر کے حوالے سے لکھا ہے کہ 'یہ سب غلط ہے۔ میں نے امریکہ کے لکھے ہوئے آئین کے خلاف ووٹ دیا ہے'۔ ایک ووٹر نے اس رائے شماری کو تاریخی قرار دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کرد علاقوں میں توقع سے کم ووٹ پڑے جبکہ شیعہ آبادی والے علاقوں میں ووٹنگ کی شرح زیادہ تھی۔ سنی عربوں نے جنوری کے انتخابات میں زیادہ جوش و خروش نہیں دکھایا تھا لیکن کہا جا رہاہے کہ انہوں نے رائے شماری میں بڑی تعداد میں حصہ لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق انبار صوبے کے بہت سے شہروں میں جہاں امریکی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان لڑائی جاری ہے ایک تہائی پولنگ سٹیشن بند رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||