عراق: ’141 مزاحمت کار ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مزاحمت کاروں کے ایک گڑھ تلعفر میں امریکی اور عراقی فوج کی طرف سے ایک بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ عراق کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز میں اس کارروائی میں 141 مزاحمت کار ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ بغداد سے چار سو کلومیٹر شمال مغرب میں واقع تلعفر نامی قصبہ 2003 میں امریکی فوجوں کے حملے سے اب تک مزاحمت کاروں کا ٹھکانہ رہا ہے۔ فوج کو اس تازہ ترین کارروائی کی اجازت دیتے ہوئے وزیراعظم ابراہیم جعفری نے کہا ہے کہ فوج کو چاہیے کہ وہ اس قصبے کودہشتگرد عناصر کی باقیات سے خالی کرائے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عراق کے شمال اور مغرب میں چار مزید شہروں میں اس طرح کی کارروائی کی جائے گی۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی نظر میں تلعفر کے قصبے پر کارروائی خاصی اہم ہے کیونکہ امریکہ کا خیال ہے کہ یہ سوریا سے عراق میں داخل ہونے والے غیر ملکی مزاحمت کاروں کا اہم ٹھکانہ ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق کارروائی کے دوران فوجیوں نے گھر گھر تلاشی لی۔
تلعفر میں کافی عرصے سے اس قسم کی کارروائی کی توقع کی جا رہی تھی اور اس سے پہلے حکام شہر کے دو لاکھ کے قریب باسیوں کو وہاں سے چلے جانے کے لیے بھی کہہ چکے ہیں۔ گزشتہ سال بھی امریکی فوج نے ایک کارروائی کی تھی جس کے بعد کہا گیا تھا کہ مزاحمت کار وہاں سے نکل گئے ہیں جو امریکیوں کے وہاں سے نکلنے کے بعد اب دوبارہ واپس آ گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||