عراقی ریفرنڈم میں ووٹنگ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں عراق میں ووٹرز آج ملک کے لیے نئے آئین پر ریفرنڈم میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ مجوزہ آئین کو عراق کی یکجہتی کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ ووٹنگ کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں کیونکہ عراق کی عبوری حکومت اور امریکی افواج کو خدشہ ہے کہ مزاحمت کار ریفرنڈم میں خلل ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ ریفرنڈم میں ڈیڑھ کروڑ ووٹروں کے لیے چھ ہزار پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ شیعہ اور کرد آبادی بھاری تعداد میں مجوزہ آئین کے حق میں ووٹ دےگی۔ اندازہ ہے کہ ووٹروں کی پچاس فیصد سے زیادہ تعداد آئینی مسودے کے حق میں ووٹ دے گی لیکن اگر عراق کے اٹھارہ میں سے تین صوبوں میں ووٹروں کی دو تہائی اکثریت نے اس مسودے کو رد کردیا تو آئین نافذ نہیں ہوسکے گا۔ عراق کے چار صوبوں نے مجوزہ آئین کی مخالفت کی تھی اُن میں سنی آبادی کی اکثریت بتائی جاتی ہے تاہم تین روز پہلے شیعوں، کردوں اور سنیوں میں ایک مفاہمت کے بعد آئینی مسودے کی منظوری کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||