برطانوی فوجیوں پر حملہ: عراقی پولیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی فوج نے تین پولیس افسروں سمیت بارہ افراد کو جنوبی عراق میں برطانوی فوجوں پر ہلاکت خیز حملوں کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ بریگیڈئیر جان لوریمر نےبی بی سی کو بتایا کہ رات کے وقت بصرہ میں فوجیوں پر حملہ کرنے والوں میں سے کچھ کا تعلق مقامی جنگجو گروپوں سے اور کچھ کا بصرہ پولیس سے ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان سب کے خلاف کارروائی محض اس لیے کی گئی ہے کہ وہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں اس لیے نہیں کہ وہ کسی خاص سیاسی گروہ یا تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات باعثِ تعجب ہے کہ پولیس کے اہلکار بھی اس دہشت گردی میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فوجیوں کی ہلاکت کےذمہ داروں کو اپنی وردیوں میں چھپنےنہیں دیا جائے گا۔ مہدی آرمی کے حامیوں نے کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے تمام افراد کا تعلق مقتدٰی صدر سے ہے جنہیں انتہا پسند مذہبی رہنما قرار دیا جاتا ہے۔ مقتدٰی صدر شروع سے ہی عراق میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کے خلاف رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ان گرفتاریوں کے دوران کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||