عراقی لاشوں کی تصاویر کی تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پینٹاگون ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ امریکی فوجیوں نے فحش تصاویر کی جگہ عراقیوں کی لاشوں کی تصویر ویب پر لگائی ہیں۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ویب پر اس طرح کو تصاویر لگانا فوجی ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تحقیقات کے دوران اس بات کی تصدیق بھی کی جائے گی کہ ان میں سے کچھ تصاویر کا تعلق افغانستان سے تو نہیں۔ اس سے پہلے 2004 میں بھی امریکی فوج کو اس وقت سکینڈل کا سامنا کرنا پڑا تھا جب عراق کی ایک جیل کے امریکی محافظوں کی قیدیوں سے بدسلوکی کی تصاویر سامنے آئی تھیں۔ ویب پر فحش تصویر کی جگہ ان تصاویر کے شائع کیے جانے کا انکشاف گزشتہ ہفتے ہوا تھا جس کے بعد کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس تنظیم کے قانونی امور کے ڈائریکٹر ارسلان افتخار نے امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کو لکھے گئے ایک خط میں لکھا ہے کہ ’انسانی پُر آشوبی کی اس قدر قابلِ نفرت تجارت ان سب لوگوں کی توہین ہے جو ہماری قومی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں یا دے چکے ہیں‘۔ امریکی وزیردفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ پینٹاگون کو حال ہی میں ان الزامات کےبارے میں علم ہوا اور اب ان کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||