دو واقعات میں گیارہ افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں دو مختلف واقعات میں چار امریکی فوجیوں سمیت گیارہ افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے ہیں۔ پہلا واقعہ بغداد کےمغربی حصے میں پیش آیا جس میں ایک کار بم دھماکہ میں سات افراد ہلاک اور سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بم غزالیہ ضلع میں پولیس کی چوکی کے سامنے پھٹا جس کے نتیجے میں چار پولیس کے افسران موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس کے پانچ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک خود کش بم حملہ آور نے اپنی کار پولیس کی چوکی سے ٹکرا دی۔ دریں اثناء امریکہ کے وزیر دفاع رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ عراق کا نیا آئین مزاحمت کاروں کے خلاف ایک مہلک ہتھیار ثابت ہوگا۔ یہ آئین منظوری کےلیے پندرہ اپریل کو پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ اس سے قبل عراق کے شمالی شہر بیجی میں ہونے والے ایک حملے میں چار امریکی فوجی ہلاک جبکہ دیگر چھ زخمی ہو گئے تھے۔ بغداد سے تقریباً 250 کلو میٹر دور شمال میں واقع اس تیل پیدا کرنے والے شہر میں امریکی فوج پر حملہ رات گئے ہوا۔ اس وقت فوجی گشت کر رہے تھے۔ امریکی فوج کے مطابق دو امریکی ہموی گاڑیاں اور ایک بکتر بند گاڑی حملے میں جل کر راکھ ہو گئی۔ گزشتہ ہفتوں میں عراق میں تعینات فوج پر مزاحمت کاروں کے حملوں میں کافی تیزی آ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے حدیثہ کے شہر میں ایک حملے میں چودہ امریکی میرینز ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی فوج کے مطابق بیجی میں امریکی فوجیوں پر حملہ عراق کے مقامی وقت کے مطابق رات کو گیارہ بج کر تیس منٹ پر کیا گیا۔ عراق میں حالیہ تشدد کے واقعات میں چالیس سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ حدیثہ میں یہ ہلاکتیں سن 2003 میں امریکہ کی سربراہی میں عراق پر ہونے والے حملے کے بعد مزاحمت کاروں کی طرف سے کسی بھی ایک حملے میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ حالیہ ہلاکتوں کے بعد عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 1834 ہو گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||