’میرے مینار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینڈا کی ایک ڈرامہ نگار جُوڈتھ تھامسن نے عراق کی ابوغریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کا اعتراف کرنے والی امریکی فوجی لنڈی انگلینڈ کی زندگی پر ایک تازہ نظر ڈالی ہے۔ My Pyramids یا ’میرے مینار‘ کے نام سے منظر عام پر آنے والے سٹیج ڈرامے میں مصنفہ نے ان اسباب کو جاننے کی کوشش کی ہے جن کے زیرِاثرلنڈی انگلینڈ نے قیدیوں کی تضحیک کی۔ اس کے علاوہ مصنفہ نےامریکی خاتون فوجی کے رویے کے اسباب کو اس کے اپنے بچپن سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سٹیج ڈرامہ ان دنوں سکاٹ لینڈ میں ایڈنبرا فیسٹیول کے سلسلےمیں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس ڈرامے میں اداکارہ ونیتا سٹارمز نے مرکزی کردار نہایت خوبصورتی سےادا کیا ہے۔ ڈرامے میں لنڈی انگلینڈ کو اپنی حرکات کا دفاع بڑے عمومی انداز میں کرتے دکھایا گیا ہے، جیسے قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔ وہ کہتی ہے کہ اُس کی اپنی زندگی بھی اتنی ہی بری تھی جتنی اُن عراقی قیدیوں کی، شاید اس بھی زیادہ بری۔ اس کھیل کےدوران ایک تاثر نمایاں رہتا ہے اور وہ یہ کہ لنڈی انگلینڈ کسی قسم کی اخلاقیات کی قائل نہیں تھی۔ وہ اپنی غیرانسانی حرکات کو بچوں کی سی سادگی اور خوشی سےمانتی ہے اور عراقی قیدیوں کے جسموں کے مینار بنانے کے اپنے غیر انسانی فعل کی ذمہ داری فخریہ انداز میں قبول کرتی ہے۔ کھیل کے دوران جوں جوں لنڈی اپنی زندگی کا جائزہ لیتی ہے وہ اپنے روحانی خالی پن کو ایک خود کش حملہ آور کے روحانی خلاء سے قریب پاتی ہے۔ کھیل کی مصنفہ جوڈتھ تھامسن ناظرین کو سوچنے کے لیے بہت مواد دیتی ہے۔ نتیجتاً ناظرین چالیس منٹ کا ایک دلچسپ ڈرامہ دیکھنے کے علاوہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ کیا لنڈی انگلینڈ کی حرکات محض اس کے ذاتی رویے کی عکاس ہیں یا اُن سے امریکی افواج کے ایک عمومی رویے کی نشاندہی بھی ہوتی ہے؟ اوراگر یہ واقعی امریکی افواج کی عمومی سوچ کی عکاس ہے تو کیا لنڈی انگلینڈ کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ پکڑی گئی؟ بہرحال ایک بات جو اس ڈرامے میں سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ لنڈی خود مظلوم ہے۔ لیکن ’میرے مینار‘ یہ فیصلہ ناظرین پہ چھوڑتا ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ لنڈی انگلینڈ کے رویے کا ذمہ دار کون ہے۔ اس کے باوجود ایک چیز واضح ہے اور وہ یہ کہ لنڈی کی غیرانسانی حرکات کا ایک محرک اس کی یہ خواہش ہے کہ معاشرتی سطح اور پیشہ ورانہ طور پراس کی حرکات کو بُرا نہ سمجھا جائے۔ سارے ڈرامے کے دوران اداکارہ ونیتا سٹارمز ناظرین کو اپنے کردار کے ساتھ ہمدردی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اگرچہ وہ اپنی شیطانی حرکات کی تفصیل معصومانہ خوشی سے بیان کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ناظرین کے دل میں اپنے روحانی خالی پن کے لیے ایک ہمدردی بھی پیدا کرتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||