لنڈی امریکی فوج کی نمائندہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق قیدیوں سے بدسلوکی کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں سے جس تصویر کی وجہ سے امریکی فوجی کی شدید بدنامی ہوئی ہے اس میں ایک خاتون فوجی لنڈی انگلینڈ کو برہنہ قیدیوں کے مخصوص حصوں کی طرف تمسخرانہ اور فاتحانہ انداز میں اشارے کرتے دکھایا گیا ہے۔ لنڈی انگلینڈ جن پر امریکی فوج کے بدنامی کا باعث بننے کے علاوہ تین اور الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ ویسٹ ورجینیا کی رہنے والی ہیں۔ بی بی سی کی نمائندہ کلاوئیو مائری نے اکیس سالہ لنڈی انگلینڈ کے اہل خاندان سے بات کی جو لنڈی کا بھرپور طریقے سے دفاع کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ لنڈی کو محض قربانی کا بکر بنایا جا رہا ہے جب کہ یہ بات اوپر تک جاتی ہے۔ لنڈی کی بہن جیسکا نے کہا وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ یہ سب کچھ جو تصاویر میں دکھایا گیا ان کی بہن نے کیا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصاویر جعلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ لنڈی امریکی فوج کی نمائندگی کرتی ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ بالکل امریکی فوجی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ لنڈی کا آبائی گھر فورٹ ایشبے کے ایک غریب علاقے سے ہے جہاں کہ مکیں خوف خدا رکھتے ہیں۔ لنڈی انگلینڈ اسی علاقے میں ایک ٹریلرز کے اڈے میں پروان چڑھی ہیں۔ انھیں فوج نے اس غربت سے نکلنے کا ایک موقعہ فراہم کیا تاہم اب ان کی والد کہتی ہیں کہ فوج نے ان کی بیٹی کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ ٹیری انگلینڈ نے کہا کہ ان کی بیٹی نے انھیں بتایا کہ وہ وہی کچھ کرتی رہیں جس کا انھیں حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انھیں حکم ملا تھا کہ قیدیوں کی زبان کھلوانے کے لیے جو کچھ کرنا پڑے کرو۔ ٹیری انگلینڈ نے کہا کہ لنڈی اپنی قوم کے ساتھ ہیں تاہم اب وہ ایسا محسوس کرتی ہیں کہ جیسے انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہو۔ اس علاقے میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ لنڈی کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے جب کہ جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری اوپر تک جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||