’تصویریں تفریح طبع کے لیے بنائیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی کا کہنا ہے کہ انہوں نے عراقی جیل میں بند قیدیوں کی تصویریں تفریح طبع کے لیے بنائی تھیں۔ امریکی خاتون فوجی لنڈی انگلینڈ کے خلاف کیس کی سماعت منگل کے روز ایک فوجی عدالت میں شروع ہوئی تھی۔ پرائیویٹ لنڈی انگلینڈ کو ابوغریب جیل میں بند قیدیوں سے بدسلوکی اور ان کے ساتھ قابل اعتراض تصاویر بنوانے جیسے متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ فوجی عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ان کا کورٹ مارشل کیا جائے یا نہیں۔ اگر ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں اڑتیس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ لنڈی انگلینڈ کے وکیل نے فوجی عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات پر عمل کر رہی تھیں۔ قیدیوں سے بدسلوکی کے وقت ابوغریب جیل کی انچارج بریگیڈیئر جنرل جانس کارپنسکی نے لنڈی انگلینڈ کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کی ہے۔ پرائیویٹ لنڈی انگلینڈ اس وقت دنیا بھر میں مشہور ہو گئیں جب ابوغریب جیل میں بند قیدیوں کی تصویریں دنیا بھر میں اخباروں کی زینت بنیں۔ ان تصویروں کی اشاعت پر دنیا بھر میں اور خاص طور پر اسلامی دنیا میں زبردست غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||