BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 August, 2004, 03:56 GMT 08:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تصویریں تفریح طبع کے لیے بنائیں‘
۔
لنڈی انگلینڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے افسروں کے احکامات پر عمل کر رہی تھیں
امریکی فوجی کا کہنا ہے کہ انہوں نے عراقی جیل میں بند قیدیوں کی تصویریں تفریح طبع کے لیے بنائی تھیں۔

امریکی خاتون فوجی لنڈی انگلینڈ کے خلاف کیس کی سماعت منگل کے روز ایک فوجی عدالت میں شروع ہوئی تھی۔

پرائیویٹ لنڈی انگلینڈ کو ابوغریب جیل میں بند قیدیوں سے بدسلوکی اور ان کے ساتھ قابل اعتراض تصاویر بنوانے جیسے متعدد الزامات کا سامنا ہے۔

فوجی عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ان کا کورٹ مارشل کیا جائے یا نہیں۔ اگر ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں اڑتیس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

لنڈی انگلینڈ کے وکیل نے فوجی عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات پر عمل کر رہی تھیں۔

قیدیوں سے بدسلوکی کے وقت ابوغریب جیل کی انچارج بریگیڈیئر جنرل جانس کارپنسکی نے لنڈی انگلینڈ کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کی ہے۔

پرائیویٹ لنڈی انگلینڈ اس وقت دنیا بھر میں مشہور ہو گئیں جب ابوغریب جیل میں بند قیدیوں کی تصویریں دنیا بھر میں اخباروں کی زینت بنیں۔

ان تصویروں کی اشاعت پر دنیا بھر میں اور خاص طور پر اسلامی دنیا میں زبردست غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد