BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 September, 2005, 00:39 GMT 05:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق اگلے چند ماہ انتہائی اہم
جارج کے سی
جنرل جارج کے سی نے کہا کہ عراقی فوج کی تین میں ایک بٹالین رہ گئی ہے
عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جارج کے سی نے کہا ہے کہ آئندہ برس عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی کے عمل کے آغاز کا انحصار اگلے ماہ عراق میں ہونے والے آئین پر ریفرنڈم اور دسمبر میں ہونے والے انتخابات پر ہے۔

جنرل جارج کےسی بش انتظامیہ کی طرف سے عراق میں جنگ کے لیے عوامی تائید حاصل کرنے کی کوششیوں کے سلسلے میں عراق کی صورت حال سے کانگرس کو آگاہ کر رہے تھے۔

امریکی شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اب یہ جاننے کا مطالبہ کر رہی ہے کہ عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلاء کب شروع کیا جائے گا۔

کانگرس کے سامنے بیان دیتے ہوئے جنرل کے سی نے اس مطالبے کا واضح جواب دینے سے احتراز کیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کارل لیون نے جب جنرل کے سی کے ایک پرانے بیان کی طرف اشارہ کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آئند برس موسم بہار سے امریکی فوجیوں کا انخلاء شروع کر دیا جائے گا تو جنرل کے سی نے کہا کہ اس کا انحصار عراق کی سیاسی صورت حال پر ہے۔

’اتحادی فوجوں میں کمی کو مشروط رکھنا ہماری حکمت عملی کا ایک اہم جز ہے اور آئندہ برس کے دوران اس پر حکمت عملی پر غور کریں گے۔‘

جنرل کے سی نے کہا ’اگلے پچہتر دن اس سلسلے میں بہت اہم ہیں اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے اس کے لیے مجھے اس سیاسی عمل کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہوگا اور پھر میں اس بارے میں کوئی بات کہہ سکتا ہوں۔‘

جنرل کے سی نے کہا کہ دسمبر تک ایک لاکھ کے قریب عراق فوجی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تین چوتھائی عراقی فوج اس قابل ہے کہ وہ جنگ میں شامل ہو سکے اور تیس کے قریب بٹالین حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

لیکن جب ان پر کانگرس کے ارکان کی طرف سے زور ڈالا گیا کہ کتنی عراقی بٹالین اس حالت میں ہیں کہ وہ امریکی فوجوں کی مدد کے بغیر ذمہ داریاں سنبھال سکیں تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ان کی تعداد تین تھی جو اب کم ہو کہ ایک رہ گئی ہے۔

دریں اثناء عراق کے علاقے بلد میں تین خودکش حملوں میں ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ رمادی کے علاقے میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم کے پھٹ جانے سے پانچ امریکی فوج ہلاک ہو گئے ہیں۔

بلد میں ہونے والے تینوں بم دھماکے چند منٹ کے وفقے سے ہوئے۔ سورج ڈھلنے کے تھوڑی دیر بعد وقفے وقفے سے تینوں دھماکے ہوئے۔ ان میں سے دو ایک ہی سڑک کے دو کناروں پر ہوئے۔

ان دھماکوں کے وقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد