عراق: خودکش خاتون بمبار کا حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں فوجیوں کی بھرتی کے ایک سینٹر پر ایک مشتبہ خاتون بمبار کے خود کش بم حملے میں چھ افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ حملہ آور بمبار خاتون ہی تھی تو دو ہزار تین میں جنگ کے خاتمے کے بعد یہ پہلا حملہ ہوگا کہ جس میں کسی خاتون کو استعمال کیا گیا ہو۔ پچھلے چار دنوں میں عراق کی سکیورٹی فورسز پر ہونے والا یہ چوتھا بڑا حملہ ہے۔ منگل کو بقوبہ میں پولیس کی بھرتی کے سینٹر پر ہونے والے بم حملے میں دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس ماہ کے آغاز میں تلعفر میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ اس علاقے میں امریکی اتحادی فوجیں اور جنگجو ایک دوسرے کے خلاف معرکہ آراء تھے۔ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں کے خلاف مہم میں پانچ سو سے زائد دہشت گرد یا غیر ملکی جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ جس کے بعد ان کا کہنا ہے کہ علاقے کا کنٹرول دوبارہ ان کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ عراقی حکام کے لیے مخلف اقدامات میں سے سب سے پہلا قدم سابق امریکی اڈے پر فوج کےایک بھرتی سینٹر کا کھولا جانا ہے۔ لیکن اس کے کھولے جانے کے پہلے ہی دن اس پر حملہ ہوگیا۔ عراق کے جنرل نجم عبدللہ کا کہنا ہے کہ ایک خودکش بم حملہ آور نے بھرتی سینٹر کے سامنے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس سینٹر کے بارے میں تصور کیا جا رہا تھا کہ اسے بدھ کو رضاکاروں کی بھرتی کے لیے کھولا جائےگا۔ بمبار خاتون جو درخواست دینے والوں کی قطار میں کھڑی تھی اس نے دھماکہ خیز مواد اپنے برقعے میں چھپا رکھا تھا۔ ایک زخمی جمعہ محمد کا کہنا ہے کہ’وہ نوجوان عورت تھی۔ وہ قطار سے تھوڑا باہر نکلی اور پھر دھماکہ ہوگیا‘۔ عراق میں آخری مرتبہ ایک خودکش خاتون بمبار کو اپریل دو ہزار تین میں جنگ کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔دو خواتین میں سے ایک حاملہ عورت نے اپنی گاڑی اتحادی فوج کی ایک نگران چوکی سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں تین فوجی ہلاک ہوگئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||