عراقی سنّی، مداخلت کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سنّی رہنماؤں نے آئینی مسودے کو مسترد کر دیا ہے اور اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ یہ بات سنّی مداکرات کاروں کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی ہے جو عراقی پارلیمان میں آئینی مسودہ پیش کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ سینیئر سنّی مذاکرات کار عبدلنصر الجنابی نے کہا کہ ’ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم اس مسودہ سے متفق نہیں اور ہم اس میں شامل شقوں کو رد کرتے ہیں۔ ہم اس مسودے سے متعلق کسی بھی ایسی بات پر اتفاق نہیں کر سکے جس سے اسے قانونی حیثیت حاصل ہو سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم عرب لیگ، بین الاقوامی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کریں اور اس دستاویز کو منظور ہونے سے روکیں اور اس میں شامل غلطیوں کو درست کرائیں‘۔
تاہم سنّی رہنماؤں نے عراق میں جاری سیاسی عمل سے علیحدہ نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ دسمبر میں ہونے والے انتخابات میں بھرپور شرکت کریں گے۔ انہوں نے عراقی سنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹر ہوں۔ عراقی صدر جلال طالبانی نے تمام عراقیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس آئینی دستاویز کی حمایت کریں جو کئی ہفتے سے جاری بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم پرامید ہیں کہ تمام عراقی اس دستاویز کو قبول کر لیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ یہ بات صحیح ہے کہ ماسوائے قرآن کوئی بھی کتاب مکمل طور پرصحیح نہیں اور قابلِ ترمیم ہے‘۔ تاہم عراق کی سنّی اقلیت اس آئین کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان کا یہ عمل امریکہ کے لیے شدید دھچکے کا باعث ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||